Khat fatema sughra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Hasan Sadiq
خط فاطمہ صغریٰ نے یہ بابا کو لکھا ہے
بیمارہوں مرتی ہوں یہ سب تم کو پتہ ہے
جس روز سے دیکھا ہے محرم کا نیا چاند
یہ کیسے لکھوں بابا کہ دل ڈوب گیا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
کب لوٹ کے گھر آؤ گے بھیا علی اکبر
کب تک تکوں میں راہ کے پتھرا گئیں آنکھیں
اب تو میری سانسوں کا بھروسہ نہیں کوئی
اب جینے کی حسرت سے بھی گھبراگیء آنکھیں
وعدہ جو کیا وعدہ نبھانے نہیں آئے
بیمار سے کس بات پہ منہ پھیر لیا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
بابا مجھے ڈستی ہے یہ تنہائی وطن کی
یہ گھر کی اُداسی ہے تو پھر قبر میں کیا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
بابا میرے یہ سونچ کے تھک جاتا ہے سینہ
تم جب سے گےء اجڑا ہے نانا کا مدینہ
خاک اڑتی ہے اس گھر میں جہاں رہتی ہے صغرا
بھائی نہیں بابا نہیں دشوار ہے جینا
لوٹ آتے ہیں گھر شام کے ہوتے ہی پرندے
کنبہ میرا کیوں اب بھی سفر میں ہی رہا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
تم جب سے گئے گھر سے یہ گھر قبر ہے میری
میں زندہ ہوں ایسی کہ کوئی لاشہ پڑا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
جھولا علی اصغر کا جھلانے کی تھی حسرت
گودی میں اسے لےکے پھرانے کی تھی حسرت
میں ہاتھوں کو پھیلاتی تھی وہ گود میں آتا
سینے سے اسے یوں بھی لگانے کی تھی حسرت
با با میرے اصغر کا تو کچھ حال سنائو
اُس بے زباں نے مجھ کو کبھی یاد کیا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
دیکھا ہے حسن صادق ریحان کے نوحوں میں
اشکوں کا سمندر ہے جو پلکوں پہ رُکا ہے
خط فاطمہ صغریٰ نے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.