Khat e sughra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
اصغر کو جگا دے کوئی
اکبر کو بتا دے کوئی
بیمار بہن نے خط میں
سب حال زار لکھا ہے
اکبر کو دعائیں دی ہے
اصغر کو پیار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں
سب حال زار لکھا ہے
صغرا نے نہ پوچھو خط میں
کیا کیا تحریر کیا ہے
پوچھا ہے ہر ایک بھائی کو
ذکر ہمشیر کیا ہے
کیوں بھول گےء دکھیا کو
سب رشتے دار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
بھیا نے خوب بہن کی
الفت کا قرض چکایا
پردیس میں جا کر اپنا
وعدہ بھی یاد نہ آیا
لینے کو نہ آے اکبر
شکوہ ہر بار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
جس دن سے آپ گےء ہیں
اڑتی ہے خاک وطن میں
کب جانے بہار آے گی
امید کے اس گلشن میں
بابا ہے اکیلے گھر میں
جینا دشوار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
فرقت میں جھلا کر اصغر
خالی تیرا گہوارہ
یادوں میں تیری صغریٰ کا
کٹ جاتا ہے دن سارا
ننھے سے مسافر تجھ پر
صدقے سو بار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
اتنی سی دب لفظوں میں
صغرا نے جسارت کی ہے
عمو سے شکایت کی ہے
بابا سے شکایات کی ہے
کیوں بھول گےء غربت میں
سب ذمہ دار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
جب عون و محمد مجھکو
تنہائی میری یاد آتے ہیں
دو چاند سے چہرے
میری نظروں میں سما جاتے ہیں
کب ہوگا نہ جانے ان کا
مجھکو دیدار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
کیوں دور وطن سے جا کر
سارے احباب بسے ہے
آنکھوں میں میرے بھیا کی
شادی کے خواب سجے ہیں
کرتی ہوں خیالوں میں میں
سہرا تیار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
پڑتے ہیں شہ دیں جب خط
ہر لاش تڑپ جاتی ہے
قاسم کو ہجاب آتا ہے
اکبر کو حیا آتی ہے
کیا کوئی نہیں ہے بابا
میرا غمخوار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
اک باپ نے عامر و اختر
مشکل سے جگر کو تھاما
اکبر کی لاش پہ رکھا
یہ کہہ کے بہن کا نامہ
خود اٹھ کے مسیحا پڑھ لے
حال بیمار لکھا ہے
بیمار بہن نے خط میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.