Kehti thi yehi jeene
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Nasir Zaidi
کہتی تھی یہی جینے سے بیزار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
لینے کے لیے بھائی کو بھیجا نہیں اب تک
بابا کو خبر دی ہے کے لاچار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
جی بھر کے ابھی دیکھ لو تم چہرئہ اکبر
پھر بھائی سے ملنا بڑا دُشوار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
اکبر سے کہے آئے مجھے لینے کو جلدی
اے بابا سفر کے لیے تیار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
وہ شہرِ مدینہ جہاں اکثر ہیں مسلمان
تنہا شاہِ والا کی اعزادار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
ہر وقت لگی رہتی ہیں دروازے پہ نظرین
اس کرب مسلسل میں گرفتار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
کیا آ گئی آواز ِ اذانِ علی اکبر
کس رنج و مصیبت میں گرفتار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
شبیر کا سر کٹ گیا عباس کے بازو
اب زینب و کلثوم ہیں دربار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
اچھا ہی ہوا تم نہ گئی ساتھ سفر میں
ماں بہن ہے اور شام کا بازار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
صغریٰ سے کہے کو ن ظفر مر گیا وہ بھی
جس اصغرِ ناداں سے تجھے پیار ہے صغریٰ
کہہ دے کوئی اکبر سے کے بیمار ہے صغریٰ
کہتی تھی یہی جینے سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.