Keh rahe thay ye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Dilawar Hasan
کہہ رہے تھے یہ سرور خط لکھا ہے صغرا نے
اے جمال پیغمبر خط لکھا ہے صغرا نے
تم کو اے علی اکبر خط لکھا ہے صغرا نے
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
کہنا یہ سکینہ سے کب پلٹ کے آؤ گی
اپنی موہنی صورت کب ہمیں دکھاؤ گی
تم کو اے علی اکبر خط لکھا ہے صغرا نے
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
تم ہماری جانب سے پیار کرنا اصغر کو
جب پلٹ کے گھر آنا ساتھ لانا اصغر کو
تم کو اے علی اکبر خط لکھا ہے صغرا نے
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
مستقل مدینے کی ڈس رہی ہے تنہائی
جلد آؤ اے بھای جلد آؤ اے بھای
تم کو اے علی اکبر خط لکھا ہے صغرا نے
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
اب تو چل رہا ہو گا گھنٹیوں میرا اصغر
خیریت سکینہ کی خط میں بھیج دو لکھ کر
تم کو اے علی اکبر خط لکھا ہے صغرا نے
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
ختم جب ہوی تحریر کہہ رہے تھے یہ سرور
اب ہماری گردن پر ہوگا شمر کا خنجر
تم کو فاطمہ صغریٰ کیا جواب میں لکھوں
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
برچیوں سے چھلنی ہے سینۂ علی اکبر
حرملہ کے ناوک سے مر گیا میرا اصغر
تم کو فاطمہ صغریٰ کیا جواب میں لکھوں
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
اک دن کی بیاہی کا رن میں مر گیا شوہر
میرا قوت بازو سو رہا ہے دریا پر
تم کو فاطمہ صغریٰ کیا جواب میں لکھوں
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
جب نہ رن میں ہم ہونگے بے ردا حرم ہونگے
کربلا سے کوفے تک مستقل ستم ہونگے
تم کو فاطمہ صغریٰ کیا جواب میں لکھوں
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
بے کسی سرور کو کیا بیاں کرے عشرت
غیر ہوتی جاتی تھی کہکے شاہ کی حالت
تم کو فاطمہ صغریٰ کیا جواب میں لکھوں
کہہ رہے تھے یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.