Bemaar hai tu
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Farhan Ali Waris
یثرب سے شاہ دیں جو سوے کربلا چلے
بہ حسرت و مصایب و آہ و بکا چلے
اسرار تھا یہ فاطمہ صغریٰ کا شاہ سے
بابا خدارا ساتھ مجھے لے کے جاءیے
سن کر فغاں یہ فاطمہ صغرا سے بولے شاہ
بیمار ہے تو صغرا بتلا دے مجھے اتنا
لے جاؤں تجھے کیسے
آسان نہیں بیٹا راہوں کی جفا سہنا
...لے جاؤں تجھے
ہر گام مصیبت ہے راہوں میں اذیت ہے
تو چل نہیں پاءیگی کانٹوں پہ مصافت ہے
تو گھر کا اجالا ہے صغرا
تو صورت زہرا اے صغرا
کر صبر کر یارا اے صغرا
کر ضبط خدارا اے صغرا
تو سہ نہیں پاےگی ہے سخت سفر بیٹا
لے جاؤں تجھے کیسے
...بیمار ہے تو صغرا
ہم کو ہے جہاں رکنا پر حول ہے وہ سہرا
کہتے ہیں جسے کربل ہم کو ہے وہاں لٹ نا
ہر سمت قضاء ہے اے صغرا
نہ آب و غزا ہے اے صغرا
کربل وہ جگہ ہے اے صغرا
بس ظلم و جفا ہے اے صغرا
اس غم سے تو بہتر ہے تو گھر میں رہے تنہا
لے جاؤں تجھے کیسے
...بیمار ہے تو صغرا
لے گود میں اصغر کو اس ننھے مسافر کو
جی بھر کے تو اے صغرا اب دیکھ لے اکبر کو
اک میرا گل تر اے صغرا
اک شکل پیمبر اے صغرا
دے رخصت مل کر اے صغرا
تیار ہے دلبر اے صغرا
یہ قافلہ جاتا ہے اب جانب کربوبلا
لے جاؤں تجھے کیسے
...بیمار ہے تو صغرا
سوءی اک دن صغرا اور خواب میں یہ دیکھا
لٹتا ہے بھرا کنبہ شبیر ہوئے تنہا
کہتے تھے تڑپ کر اے صغرا
میری پیاری دختر اے صغرا
تو دیکھ یہ منظر اے صغرا
کوءی نہیں یاور اے صغرا
اب جان لیا تو نے میں اس لئے کہتا تھا
لے جاؤں تجھے کیسے
...بیمار ہے تو صغرا
گھبرا کے اٹھی مضطر نانی سے کہا رو کر
دیکھا ہے ابھی میں نے کہتے تھے یہیں سرور
اب میرے گلے پر اے صغرا
چلنے کو ہے خنجر اے صغرا
کوئی نہیں یاور اے صغرا
مارے گےء دلبر اے صغریٰ
یہ سوچ کے ہی میں نے بولا تھا تجھے بیٹا
لے جاؤں تجھے کیسے
...بیمار ہے تو صغرا
شبیر کا جب کنبہ نانا کے شہر پہنچا
فرحان اور صفدر یہ زینب نے کہا صغرا
برباد ہوا گھر اے صغرا
ہوا قتل برادر اے صغرا
عباس اور اکبر اے صغرا
کوئی نہیں سر پر اے صغرا
اس واسطے بھائی نے بولا تھا تجھے بیٹا
لے جاؤں تجھے کیسے
...بیمار ہے تو صغرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.