Akbar teri behna ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
اکبر تیری بہنا کو تیری یاد ستاتی ہے
ویران حویلی میں بیمار بلاتی ہے
اکبر تیرے وعدہ تھا میں لینے کو آؤں گا
بن تیرے میری بہنا سہرا نہ سجاؤں گا
کپڑے تیری شادی کے ہمشیر بناتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
خط بھیجا نہ خود آے کیا بات ہوی بھیا
میں دیس میں تنہا ہوں پردیس میں ہے کنبہ
دن مجھکو رلاتے ہیں شب مجھکو ڈراتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
اس بار جھلاوں میں جھولا علی اصغر کا
دیکھا ہی نہیں کب سے چہرہ علی اصغر کا
روتی ہوں نظر میری جب جھولے پہ جاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
بھیا تیری صغریٰ کو ڈھارس ہے تیرے دم سے
اتنا تو بتا جاؤ کیوں دور ہوے ہم سے
دن بیت گےء کتنے اب جان یہ جاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
زخمی تھا تیرا سینہ کل خواب میں دیکھا تھا
کچھ آگ کے شعلے تھے جلتا ہوا جھولا تھا
اس خواب کی صغرا کو تعبیر رلاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
بیمار شفا پاے اکبر جو میرا آے
بن اپنے مسیحا کے گھٹ گھٹ کے نہ مر جاۓ
دھڑکن تیرے آنے کی بس آس بندھاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
عباس چچا تم ہی بابا سے کہو جا کر
اکبر نہیں آ سکتے لے جاؤ تم ہی آ کر
دم گھٹتا ہے اکبر کی جب یاد ستاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
زیشان و رضا کا بھی مقبول ہو یہ پرسہ
زندہ ہے قیامت تک عرفان کا یہ نوحہ
آواز یہ ناصر کی ہر دل کو رلاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر تیری بہنا کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.