Afsos mai nahi hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
خواب صغرا
بہن نے خواب یہ کل شب ہے دیکھا
شبیہ مصطفیٰ بھیا ہمارا
پدر کے ہاتھ سے بنتا ہے دولہا
بہت مسرور ہے خوش ہے سکینہ
دمکتا ہے خوشی سے سب کا چہرہ
لیکن میں نہیں ہوں افسوس میں نہیں ہوں
پھوپھی اماں بلائیں لے رہی ہے
بہت فضہ دعائیں دے رہی ہے
ٹھکانہ کیا ہے بہنوں کی خوشی کا
جو مانگے وہ جو چاہے لے رہی ہیں
مناتا ہے خوشی کنبہ ہمارا
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
علی اصغر کو شہ بالا بنا کر
بٹھایا ماں نے اکبر کے برابر
ہتھیلی پر رکھی مہندی ذرا سی
کھڑے ہیں پاس عباس دلاور
مجھے قاسم نے ہر خیمے میں ڈھونڈا
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
دلہن کے پاس بیٹھی ہے سکینہ
بہت مسرور ہے غازی کا بیٹا
چچا اکبر کی شادی کی خوشی میں
نیا ملبوس ہے باقر نے پہنے
اچانک مجھکو عابد نے پکارا
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
مہک سہرے کی یہ بتلا رہی ہے
سواری سیدہ کی آ رہی ہے
نجف سے مرتضی آئے ہوئے ہے
ہوا تعظیم کرنے جا رہی ھے
ہے آنچل مل کے سب بہنوں نے ڈالا
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
اچانک خواب ٹوٹا روئی صغرا
تھا گھر میں ہر طرف چھایا اندھیرا
تھا لاشوں سے بھرا گنج شہیداں
علی اکبر کے سینے میں تھا نیزہ
میرے بابا تمہیں دینے کو پرسہ
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
ابھی تو خواب تھا کتنا سہانا
تھا جن ہاتھوں میں دیکھا میں نے کنگنا
وہ سینے کا لہو روکے ہوئے تھے
کہاں کی رسم شادی کیسا سہرا
سبھی دیتے ہیں بابا کو سہارا
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
ثمر بہتے رہے صغرا کے آنسو
بھرے اکبر کے خاک و خوں میں گیسو
علی اکبر سوئے جنت سدھارے
فضا میں رہ گئی بس خون کی بو
جنازہ میں اٹھاتی مل کے بابا
لیکن میں نہیں ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.