Zainab hoo mai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Safdar Abbas
زینب نے خطبہ دیا دربار ہلنے لگا
خطبات کی تیغ سے یہ کہکے حملہ کیا
زینب ہوں میں میرا بابا علی میری ماں سیدہ
اے شامیوں گوہر سے تم سنو آج خطبہ میرا
زینب ہوں میں میرا بابا علی میری ماں سیدہ
یہ نہ سمجھو کہ مجبور و لاچار ہوں
عظم شبیر حیدر کی تلوار ہوں
مرضیء رب سے غم میں گرفتار ہوں
بعد عباس میں ہی علمدار ہوں
پہچان لو سن کے لہجہ میرا کون ہوں با خدا
زینب ہوں میں۔۔۔
جان جاؤ گے تم میرا نام و نصب
جس نے پایا ہے شیر خدا کا لقب
اس کی بیٹی ہوں میں جانتے ہیں یہ سب
آج دیکھو گے تم میرا غیض و غضب
میں شام کو جیت کر جاؤنگی عظم ہے یہ میرا
زینب ہوں میں۔۔۔
میری رگ رگ میں ہے خون خیبر شکن
کیا مجھے قید کر پاے گی یہ رسن
شیر جیسے برادر کی ہوں میں بہن
کانپ جاے نگے لہجے سے کیوں ہو دمن
وعدہ وفا میں کرونگی یہاں بھائی شبیر کا
زینب ہوں میں۔۔۔
ابن مرجان جیسا نجس آدمی
یہ سمجھتا ہے فتح اسے مل گئی
قتل ہوکر بھی زندہ ہے میرا اخی
ہے دلوں پر حکومت میرے بھائی کی
بعد از حسین بن گیء میں حسین یہ رجز ہے میرا
زینب ہوں میں۔۔۔
دیکھنا کام ایسا میں کر جاؤنگی
ہوگی اس شہر پر بھی حکومت میری
ہوگی مجلس یہاں پر میرے بھائی کی
میں مٹا دونگی زہنوں سے یوں تیرگی
ہوگا وہی میں نے جو کہہ دیا یہ ہے دعویٰ میرا
میرے خطبوں سے گونجے گی یہ وادیاں
لہجہء حیدری ہوگا سب پہ عیاں
یوں گرا دوں گی خطبات کی بجلیاں
اب یہ ایوان ظلمت رہیں گے کہاں
رہ جاے نگے اس فضا میں اثر میری آواز کا
زینب ہوں میں۔۔۔
شام والوں سنو بات میری مزید
جتنا چاہو کرو ظلم ہم پر شہید
مجھکو خود پر بھروسہ ہے رب پر امید
بھول جائے گا بیعت کی باتیں یزید
یہ عزم ہے اور علان ہے کرکے دیکھو وغا
زینب ہوں میں۔۔۔
تم کہاں اور زہرا کی بیٹی کہاں
روک پائیں گے کیا مجھکو یہ سختیاں
توڑ ڈالونگی میں پہنادو تم بیڑیاں
جتنی چاہے بھی پہنادو تم بیڑیاں
جانا نہیں تم نے شاید مجھے سنلو اہل جفا
زینب ہوں میں۔۔۔
بنت حیدر کا صفدر یہ علان تھا
اپنے بھائی سے میں نے جو وعدہ کیا
سن لو اہل جفا سن لو اہل جفا
جان دیکر کرونگی وہ وعدہ وفا
مضطر ہوں میں اور قیدی بھی ہوں پھر بھی ہے حوصلہ
زینب ہوں میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.