Mere parde ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Safdar Abbas
اے میرے باوفا غازی
ہے بہن بے ردا غازی
غازی کی خواہر جب قیدی بن کر
لے کر چلی کارواں
ہونٹوں پہ تھا مرثیہ
کرتی تھی بس یہ فغاں
شام جانا ہے انتظام تو کر
میرے پردے کا با وفا غازی
شام و کوفے کی راہ گزاروں سے
کیسے جاؤں گی بے ردا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
بعد تیرے لعیں زادوں نے
نوکِ نیزہ سے چھین لی چادر
تیری غیرت نے خون رلوایا
جب اسیر رسن ہوی خواہر
یاد آیا سفر مدینے کا
آی ہونٹوں پہ یہ بکا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
میں میدان کی شاہزادی ہوں
محملیں آی نہ عماری ہے
میں تماشہ ہوں اور تماشائی
میرے نانا کی قوم ساری ہے
ایسے عالم میں اک سوا تیرے
کس کو آواز دوں بتا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
کیفیت دل کی کیا بتاؤں میں
دل یہ کہتا ہے مر ہی جاؤں میں
میرا سجاد خون روتا ہے
چہرہ بالوں سے جب چھپاؤں میں
اک چادر کا اب سوالی ہے
صبر و غیرت کو وہ خدا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
کب یہ سوچا تھا اے میرے غازی
زندگی ایسے آزماے گی
تیری زینب بغیر تیرے ہی
بے ردا ہو کے شام جاے گی
اے میرے شیر کر مدد میری
صرف تجھ سے ہے آسرا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
آیینوں سے سجاے ہیں بازار
لوگ ہنستے ہیں میرے رونے پر
اس قدر سخت امتحان ہے یہ
خوں رُلاتا ہے مجھکو یہ منظر
اک نیزے پہ میری چادر ہے
ایک نیزے پہ سر تیرا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
درد تحریر میں نہیں آتے
لفظ کرتے ہیں التجاء مظہر
اک جملہ بہت قیامت ہے
لب پہ آتے ہی رو دیا صفدر
شام جا کر کہا جو بی بی نے
میرے مرنے کے کر دعا غازی
شام جانا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.