Kahin nahi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Sajid Jafri
کہیں نہیں ہے سفر میں قیام زینب کو
ابھی تو جانا ہے مقتل سے شام زینب کو
لٹا کے اپنی کمائی جو پہنچی اسکے حضور
بچا کے اسکی خدای جو پہنچی اسکے حضور
خدا نے پیش کیا اپنا جام زینب کو
کہیں نہیں ہے۔۔۔
فنا کے سیل میں زینب کا بین رہ جائے
خدا کا چہرہ لیےء یا حسین رہ جائے
اسی سبب سے ملا ہے دوام زینب کو
کہیں نہیں ہے۔۔۔
اذل ابد کے تسلسل ہے چاہے دن ہو کہ رات
ہر ایک زمانے میں کرنا فقط حسین کی بات
نہیں ہے اس کے سوا کوئی کام زینب کو
کہیں نہیں ہے۔۔۔
کہے تو کس سے جو اس پر گزر گیء ہاے
اسے تو کھا گئی کوفے کی خاموشی ہاے
مگر ہلا نہ سکا شور شام زینب کو
کہیں نہیں ہے۔۔۔
جو دیکھا صغرا تو کھو دیے حوس تمام
وہ پوچھتی بھی تو صغرا سے کیسے اس کا نام
کہ قد نہ یاد رہا اپنا نام زینب کو
کہیں نہیں ہے۔۔۔
براے ارض و سماں راستہ نکالنا ہے
حدود وقت سے یہ قافلہ نکالنا ہے
سو دے رہے ہیں قیادت امام زینب کو
کہیں نہیں ہے۔۔۔
رخ حسین کو تا زندہ کر دیا ہے نوید
خدا کو اس نے جو پایندہ کر دیا ہے نوید
یہ خون کا پرسہ ہے یعنی سلام زینب کا
کہیں نہیں ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.