Faryad e zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Shahid Baltistani
سامنے بہن کی آنکھوں کے
گردن پہ خنجر چلایا
ایک مظلوم پیاسے پر
ظالم کو ترس نہ آیا
ہاں میرا اجڑ گیا گھر بار
ہاں میں تنہا ماتم دار
ہاے میں اجڑ گیء نانا
ہاے میں اجڑ گیء
چلی دل پہ میرے تلوار
اب موت کے ہیں آثار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
نانا تیری امت نے میرے
جینے کے سہارے چھین لیےء
اس کربوبلا کے جنگل میں
آنکھوں کے ستارے چھین لیےء
میں بیکس میں لاچار
سب کنبے کی غم خوار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
دریا کے کنارے جلتا ہوا
گھر آج تلک دیکھا کس نے
قرآن سر نیزہ نانا
پڑھتا ہوا سر دیکھا کس نے
کیا بیعت سے انکار
بھای پہ چلی تلوار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
وہ شام غریباں کا منظر
بیمار کا شعلوں میں بستر
وہ بہتا ہوا کانوں سے لہو
وہ نیل سکینہ کے رخ پر
کانوں سے لہو کی دھار
جب زخمی تھے رخسار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
اک شیر ترای میں سویا
جو آس تھا پیاسے بچوں کی
جو مشک بچانے کی خاطر
قربانی دے گیا ہاتھوں کی
پردے کا ذمہ دار
مارا گیا آخر کار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
وہ ظلم بھی دیکھے ہیں میں نے
جو دن کو رات بنا دیتے
میں رو نہ سکی آنسوں میرے
پانی میں آگ لگا دیتے
بھای کا تھا یہ اسرار
بس صبر میری غم خوار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
شانوں پہ نشاں ہیں رسی کے
سوغات سفر یہ لای ہوں
ہے دل میں داغ بہتر کے
اے نانا میں دکھ پای ہوں
تھی تنگ کی وہ بوچھار
روتا تھا علمبردار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
وہ ابنِ حسن پامال بدن
دولہا جو بنا اک شب کے لئے
مقتل کی زمیں پر اس کا بدن
گھوڑوں نے کیا ٹکڑے ٹکڑے
سینے پہ زخم ہزار
اک سر کے ٹکڑے چار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
زینب کی صدا ہر مجلس میں
نوحوں کی زبانی آتی ہے
بی بی کی صدا دہراتا ہے
جسے نوحہ خوانی آتی ہے
ریحان میرے اشعار
دل زینب کے ہے پکار
ہاے میں اجڑ گیء نانا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.