Bin tere na ghar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Nadeem Sarwar
عابد نے کہا آکے قریب بنتِ علی سے
اب سُوئے وطن چلیئے پھپی جان میں صدقے
سن کر یہ خبر زخمِ جگر پھٹ گئے سارے
مرقد سے لپٹ کر کیے زینب نے یہ نالے
میں جب بھی وطن جائوں گی بھیا
بِن تیرے نہ گھر جائوں گی بھیا
اٹھارہ برس کا علی اکبر بھی یہیں ہے
چھ ماں کا ننھا علی اصغر بھی یہیں ہے
ہے خاک بسر فرواہ کا دلبر
پامال بدن قاسمِ مضطر
کس دل سے میں گھر جائوں گی بھیا
بِن تیرے نہ گھر ۔۔۔
کیا دن تھے کہ آباد تھا زہرا کا گلستاں
یہ کیسی نظر کھاگئی سب ہوگیا ویراں
باقی نہیں اب کوئی نگہباں
سب بھائی میرے ہوگئے بے جاں
مرجائوں گی مرجائوں گی بھیا
بِن تیرے نہ گھر ۔۔۔
عباس سے اور تم سے ہے زینب کو ندامت
زندان میں چھوڑ آئی ہوں دونوں کی امانت
کیا ٹوٹ گئی مجھ پہ قیامت
کس درجہ ہے زینب کو خجالت
وہ لب پہ نہیں لائوں گی بھیا
بِن تیرے نہ گھر ۔۔۔
سوتا ہے میرا دھوپ میں ننھا علی اصغر
کہتی ہے یہ بانو کے ہے والی بھی یہیں پر
زندان میںاک مرگئی دختر
بیٹھے گی نہ اب سائے میں مادر
کیا کہہ کے میں سمجھائوں گی بھیا
بِن تیرے نہ گھر ۔۔۔
تیار نہیںسوئے وطن جانے کو لیلیٰ
وہ کہتی ہے میں چھوڑ دوں کس طرح سے تنہا
اٹھارہ برس کا میرا بیٹا
رہ جائے گا اس بن میں اکیلا
کیسے اُسے سمجھائوںگی بھیا
بِن تیرے نہ گھر ۔۔۔
آمد کی خبر سن کے انیس آئیںگے سارے
یہ نیل نمایا ہے جو بازو پہ رسن کے
گر پوچھ لیامجھ سے کسی نے
بتلائوںگی اُن کو میں یہ کیسے
بس شرم سے مرجائوں گی بھیا
بِن تیرے نہ گھر ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.