Behan ghareeb hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Sajid Jafri
رہ گئی دشت میں تنہا تو وطن یاد آیا
پانی پیا تو ہر اک تشنہ دہن یاد آیا
لے کے ہر چیز مدینے سے چلی تھی زینب
لاش پر بھائی کے پہنچی تو کفن یاد آیا
شبیر تیری غربت کی قسم میں لاش تیری دفنا دیتی
گر سر پہ میرے چادر ہوتی میں تجھ کو کفن پہنا دیتی
شبیر یہ دیس پرایا ہے ورنہ میں تمہاری میت پر
انمبار لگاتی کلیوں کے پھولوں کی مینہ برسا دیتی
شبیر تمہیں معلوم تو ہے میرے ہاتھ بندھے ہیں گردن سے
گر ہاتھ میرے جو کھُلے ہوتے میں لاش وطن پہنچا دیتی
شبیر یہ تم نے اچھا کیا کعبے سے نکل آئے ورنہ
یہ اُمت وامو کے بدلے میں کعبے کو آگ لگا دیتی
کوثر یہ کسے حق حاصل ہے تحریر نبی کی چاک کرے
اُمت کو اگر منظور نہ تھا زہرا کو سند لوٹا دیتی
بہن غریب ہے بھیا کفن بھی لا نہ سکی
اے بھائی اہلِ ستم سے تجھے بچا نہ سکی
وہ جس کی شادی کا مجھے ارمان تھا بھیا
میں ایسی اُجڑی کے دولہا اُسے بنا نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
کہا رباب نے یہ رو کر پیاسے اصغر سے
مجھے یہ غم ہے کے پانی تجھے پلا نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
اے بھائی شامِ غریباں کے گُپ اندھیرے میں
تمہاری بالی سکینہ کو نیند آ نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
دفن تمام شہیدوں کے ہو گئے لاشے
میں اپنے بھائی کی تربت مگر بنا نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
غریب بھائی کا ماتم نہ کر سکی زینب
تمہاری لاش پہ آنسو بھی میں بہا نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
جلایا آگ نے دامن کو اس طرح بھیا
تمہاری بیٹی سکینہ اُسے بجھا نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
یزیدیت نے تو چاہا حسینیت نہ رہے
غمِ حسین کو دُنیا محب مٹا نہ سکی
بہن غریب ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.