Ay zaeefa meri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
دیکھا زینب کو تو عبداللہ نے رو کر پوچھا
اے ضعیفہ میری زینب کو کہیں دیکھا ہے
کس لئے آی ہے کرنے میرے گھر تو گریہ
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
کیا محمد کی نواسی سو تو پہچانتی ہے
کیا میرے عون و محمد کو بھی تو جانتی ہے
تجھکو معلوم ہے احوال میرے بچوں کا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
کتنے مشہور تھے اس شہر میں خیرات اسکی
اپنی مادر سے بہت ملتی تھی صورت اس کی
اوڑھ کر گھر سے نکلتی تھی وہ زہرا کی ردا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
کھینچا کرتا تھا قناعتیں علی اکبر اس کی
کتنی تعظیم کیا کرتے تھے سرور اسکی
اور عباس دیا کرتے تھے پہرہ اس کا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
بدلیاں غم کی مدینے پہ جو یہ چھای ہے
کیا وہ شہزادیاں پردیس سے لوٹ آئی ہے
آ گیا خیر سے کیا سبط نبی کا کنبہ
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
روکے عبداللہ سے تب حضرتِ زینب نے کہا
میں ہی زینب ہوں مصائب نے مجھے گھیرا ہے
آج تم بھی نہیں پہچانتے چہرہ میرا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
میں ہی زینب ہوں مگر آج ہوں میں کتنی غریب
لے گیا نرغہء اعدا میں مجھے میرا نصیب
اور میرے پاس نہ محمل تھی نہ مقنہ نہ ردا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
ہوے مقتول جفا دشت میں بچے میرے
حد تو یہ ہے کہ جلاے گےء خیمے میرے
جل گےء شعلوں میں بے شیر کا ننھا جھولا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
رخ پہ سرور نے ملا خون علی اصغر کا
دیکھا برچھی میں جگر میں نے علی اکبر کا
سامنے میرے کٹا ہے میرے بھائی کا گلا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
کہوں کس طرح بندھی تھی میرے شانوں میں رسن
کیسے بتلاؤں میں وہ شام کے زنداں کی گھٹن
ہو گیء خاک کا پیوند سکینہ دکھیا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
کیا کہے نیر و عامر وہ بھلا غم کا سماں
وہ مدینے کی فضا ہو یا ہو زینب کی فغاں
اٹھ رہی تھی در و دیوار سے نوحوں کی صدا
اے ضعیفہ میری زینب۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.