Aseer hoti hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Dilawar Hasan
بتا رہی ہے دلوں کی بڑی ہوی دھڑکن
عطش کی آگ سے اب تک جھلس رہا ہے بدن
قیام جل چکے ہاتھوں میں بند چکی ہے رسن
اسیر ہوتی ہے اٹھارہ بھائیوں کی بہن
ابھی مصائب کربوبلا سے گزری ہے
ابھی تو خیموں سے باہر نکل کے بیٹھی ہے
کہاں ہو اے میرے عباس رو کے کہتی ہے
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
شہید ہو گےء سب بھائی کربلا آ کر
ردا بھی چھن گیء سر سے ہوی برہنہ سر
جو دیکھ سکتے ہو عباس دیکھ لو منظر
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
عجیب حال سے زینب گزر رہی ہے یہاں
جالی قناعتوں سے اب تک نکل رہا ہے دھواں
ابھر کے آ گےء بازو پہ رسیوں کے نشاں
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
قدم قدم پہ مدینے کی یاد آتی ہے
یتیم بچوں کو تسکین دیتی جاتی ہے
کبھی بھتیجے کو بد کار گلے لگاتی ہے
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
پس حسین منادی یہ دے رہا تھا صدا
چھٹا مدینہ تو سب بھائیوں نے چھوڑ دیا
ملا ہے کربوبلا آکے یہ نیا تحفہ
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
کسے بھلاے کسے دے صدا کرے بھی تو کیا
کوئی بھی عابد بیمار کے سوا نہ رہا
تمہارے خط کا لکھے کیا جواب اے صغرا
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
رکی رکی ہوی نفزیں ہے دل دھڑکتا ہے
قدم قدم پہ مصیبت کا دور دہرا ہے
جری فرات پہ یہ بات سن کے روتا ہے
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
تھا اتنا شرم میں ڈوبا ہوا سکینہ سے
پلٹ کے آیا نہ عباس میرا دریا سے
کہا یہ حضرت زینب نے رو کے لیلیٰ سے
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
کہاں پہ لای ہے زینب کو گھر کر قسمت
ہجوم رنج و الم اور درد کی شدت
زباں کون سی لاے جو یہ کہے عشرت
اسیر ہوتی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.