Apne bachon ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Shadman Raza
ہاے اکبر ہاے زینب
اپنے بچوں کو کہاں زینب مضطر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
لال زینب کے سر کربوبلا قتل ہوے
لاے جب شاہ زمن دونوں کے لاشے رن سے
اک بھی پل کے لئے ان کو نہ مادر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
ہاتھ پر باپ کے بے شیر کا جب حلق چھدا
اپنے اصغر پہ کیا بنت علی نے گریہ
پھر بھی کب بانوے بیکس کے برابر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
سخت دشوار تھا یہ بات کا دل پر سہنا
نہر سے سامنے عباس کے خیمے ہٹنا
گرچہ اس ظلم پہ بھی زینب مضطر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
مانگنے آیا جو خیمے میں جری رن کی رضا
جوڑ کے ہاتھوں کو خاموش کھڑا تھا سقہ
دیکھ کر اپنے برادر کا جھکا سر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
جن کو پانی نہ ملا ہاے رے وہ خستہ جگر
خطرہء آب کو ترسے ہوئے ان بچوں پر
دشت میں شیر خدا آپ کی دختر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
آج ہر نور نظر مجھ سے بچھڑ جائے گا
سوچ کر یہ ہی کے گھر میرا اجڑ جائے گا
صبح عاشور بہت شاہ کی خواہر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
جس سے ڈھارس تھی بہت ہاے وہ سقہء حرم
جس کے مر جانے سے پیاسوں کا بڑھا اور بھی غم
اس کے پرچم سے لپٹ کر بھی تو اکثر روی
ہاں مگر لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
اپنے بچوں کو کہاں۔۔۔
غم تھا بس حشر میں اظہار یہی زینب کو
آ گیا یاد جو ہمشکل نبی زینب کو
دیکھ کر نانا کو ایسے سر محشر روی
جس طرح لاشہء اکبر پہ تڑپ کر روی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.