Aaja mere bhai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Rizwan Zaidi
یہ شامِ غریباں میں تھی زینب کی دہائی
آجا میرے بھائی
میں رہ گئی اِس دشت میں تنہا مرے بھائی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
اب اصغر و اکبر ہیں نہ شبیر ہیں باقی
غربت ہے بَلا کی
سب لُٹ گئی پردیس میں اماں کی کمائی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
رو رو کے صدا دیتی تھی وہ درد کی ماری
اے بھائی میں واری
مظلوم بہن سہہ نہیں پائے گی جدائی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
کیوں پیا س کے ماروں کی نہیں سنتے ہو آہیں
ویراں ہیں نگاہیں
کیا ایسی مرے بھیا تمہیں بھائی ترائی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
جب زینبِ دلگیر چلی جانبِ زنداں
بے حال و پریشاں
مُڑ مُڑ کے صدا دیتی رہی غم کی ستائی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
جب شام کے بازار میں یہ قافلہ پہنچا
اِک حشر تھا برپا
آواز لرزتے ہوئے ہونٹوں سے یہ آئی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
اِک لاشہ لبِ نہر تڑپ جاتا تھا گوھر
تھا حشر کا منظر
جب کہتی تھی دل تھام کے یہ فاطمہ جائی
آجا میرے بھائی
یہ شامِ غریباں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.