Ay chand moharram ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Chand Raat recited by Nasir Asghar Party
اے چاند محرم کے تُوں بدلی میں چلا جا
تُجھے دیکھ کے مر جائے نہ بیمار ہے صغریٰ
گھر زہرا کا لُٹنے کی خبر توں نے سُنائی
تُجھے دیکھ کے روتی ہے محرم میں خدائی
چودہ سو برس بیتے سب کرتے ہیں شکوہ
اے چاند محرم کے۔۔۔
ملنے کے لیے بھائی کو بے چین بڑی ہے
کب سے علی اکبر کی یہ راہوں میں کھڑی ہے
بچھڑی ہے یہ مدت سے اسے تُونہ نظر آ
اے چاند محرم کے۔۔۔
ویران گھروں میں نہ اسے نیند ہے آتی
اکبر کی جُدائی ہے اسے خون رُلاتی
قدموں کے نشاں ڈہانپ کے بیٹھی ہے سرِ راہ
اے چاند محرم کے۔۔۔
گِن گِن کے جو صغریٰ نے یہ دن ہیں گُزارے
زندہ ہے تو اکبر کی یادوں کے سہارے
دن رات تڑپتی ہے اسے اور نہ تڑپا
اے چاند محرم کے۔۔۔
بھیّا کی جُدائی میں پریشان ہے رہتی
ہر روز یہ نانا کو رو رو کے ہے کہتی
اکبر نہ ملا نانا میں مر جائوں گی تنہا
اے چاند محرم کے۔۔۔
قاصد کو دیا خط میں یہ پیغام لکھا کے
بک بار تو مل جا میرے سینے سے لگا کے
پتھرائی ہوئی نظریں کب دیکھیں گی چہرہ
اے چاند محرم کے۔۔۔
وعدہ جو کیا بہن کو سینے سے لگا کے
میں شادی کروں گا تو تیرے پاس ہی آ کے
میں سات محرم کو لوٹوں گا نہ گھبرا
اے چاند محرم کے۔۔۔
رونے نہیں دیتے مجھے راتوں کو مسلماں
بیماری سے بے حال کچھ روز کی مہماں
ہر سمت سے ہے مجھ کو اب موت نے گھیرا
اے چاند محرم کے۔۔۔
بہنوں کا تو بھائیو سے رشتہ ہی عجب ہے
تم بھول گئے مجھ کو یہ کیسا غضب ہے
اس آس پہ زندہ ہوں دیکھوں تیرا سہرا
اے چاند محرم کے۔۔۔
صغریٰ کے نصیبوں میں تو رونا ہی لکھا ہے
سردار معصومہ کو ملی کیسی سزا ہے
خط آیا نہ اکبر کا روتی رہی صغریٰ
اے چاند محرم کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.