Shabbir ka sar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Ameer Hasan Aamir
طشت سے اٹھ کے چلا حضرتِ شبیر کا سر
حسرت و یاس سے ڈالی جو سکینہ نے نظر
امتحاں بانیء شر نے جو سکینہ کا لیا
ہو گیا شام کے دربار میں کہرام بپا
دیکھ کر رونے لگے اہلِ نظر یہ منظر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
سر جھکائے سر دربار کھڑی تھی بچی
یہ خدا جانے کہ کیا سوچ رہی تھی بچی
اشک آنکھوں سے گرے جب کہ زمیں کے اوپر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
نیل رخسار کا بابا کو دکھایا ہو گا
کتنے کھاے ہیں طمانچے یہ بتایا ہوگا
اپنے دکھ درد کیےء ہونگے بیاں رو رو کر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
چپ رہی بالی سکینہ نے کہاں کچھ بولا
صرف اک بار جلے کرتے کا دامن کھولا
کوئی شکوہ یا شکایت نہیں لای لب پر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
دیکھتے روتے ہوے کیسے یتیمہ کو حسین
کر نہیں سکتے تھے مایوس سکینہ کو حسین
ہاتھ پھیلائے بلانے کے لےء جب رو کر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
چاہتے کب کہ سکینہ کو کوئی کچھ بولے
کب گوارا تھا زباں اپنی ستمگر کھولے
بے ردائی کا سفر رکھتے ہوے مد نظر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
باپ شبیر سا اور بیٹی سکینہ جیسی
ڈھونڈنے سے بھی کسی کو نہ ملا اور نہ ملی
ہم نے دیکھا سر دربار یہ چاہت کا اثر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
جلوہ گر دوش ہوا پہ سر سرور دیکھا
جانے کن آنکھوں سے ظالم نے یہ منظر دیکھا
شرم سے اپنا اٹھا پایا نہ سر بانیء شر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
کیفیت بالی سکینہ کیبیاں کیسے کروں
درد جو دل میں ہے چہرے پہ عیاں کیسے کروں
نیل ہی نیل نظر آتے تھے رخساروں پر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
منہ پہ منہ رکھ کے سکینہ نے کیےء بین آصف
چند لمحے ہی یتیمہ کو ملا چین آصف
دیر تک روے مؤرخ بھی یہ عامر لکھ کر
طشت سے اٹھ کے چلا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.