Haan tha mera baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Nadeem Sarwar
رسن میں گلے بارہ اور برہنہ سر
جب آے شام کے دربار میں دریدہ جگر
پڑی سکینہ پہ نگاہ اس شقی کی نظر
یزید نام تھا جس کا سجاے تھا دربار
لیےء تھا گود میں دختر کو اپنی وہ مکار
وہ اپنی بچی کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا تھا
لگا کے سینے سے بچی کو پیار سے دیکھا
لہک کے بالی سکینہ سے وہ شقی بولا
تجھے بھی بابا تیرا ایسے ہی پیار کرتا تھا
کہا سکینہ نے میں شاہ دیں کی پیاری ہوں
تباہ حال ہوں اس دم دکھوں کی ماری ہوں
تم میرے بابا کا گندی زبان سے نام نہ لے
غرور اتنا نہ کر باندھ کے رسن میں ہمیں
میں کتنی پیاری تھی بابا کی کیا بتاؤں تجھے
میں بھول سکتی نہیں اپنے بابا کو مر کے
میں جب بھی روتی تھی بابا مجھے مناتا تھا
بنا کے ہاتھوں کو جھولا مجھے جھلاتا تھا
ہاں تھا میرا بابا میرے لئے زندہ
میں سینے پہ سوتی تھی تسکین سی ہوتی تھی
ماں بن کے مجھے جس نے آغوش میں پالا تھا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
کیا پوچھتا ہے مجھے خود پوچھ لے بابا سے
سر طشت میں رکھا ہے وہ خود ہی بتا دے گا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
میں کتنی دلاری ہوں وہ درد کی ماری ہوں
گر ان کو بلاؤں میں سر گود میں آے گا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
کیوں مجھکو رلاتا ہے ایسا کہیں ہوتا ہے
بن باپ کی بچی کو دیتے ہیں دلاسہ
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
تیری بھی تو بیٹی ہے گودی میں جو بیٹھی ہے
تو دیکھ اسے ظالم پھر دیکھ میرا چہرہ
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
عباس اگر ہوتے کنبے کو میرے کیسے
تو باندھ کے رسی میں دربار میں لاتا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
یہ کرتہ پھٹا میرا جو خون میں ڈوبا ہے
عباس جو دیکھیں گے ایک حشر اٹھے گا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
چلتا نہ اگر خنجر شبیر کی گردن پر
ہم قید نہیں ہوتے اکبر نہ سناں کھاتا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
یہ خاک اسیری کی چہروں پہ نہیں ہوتی
بابا میرے سجدے میں گر سر نہ کٹاتا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
ریحان قلم میرا لکھ کر یہ بیاں رویا
کاغذ پہ گرے آنسوں دل درد سے تڑپا
ہاں تھا میرا بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.