Darbar bulaya jaata
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Ali Yazdan
افسوس کے زینب کو دربار بلایا جاتا ہے
کیسا یہ ستم ہاے سادات پہ ڈھایا جاتا ہے
ہیں بین یہ زینب کا میں آج ہوں بے پردہ
اب کوئی نہیں میرا میں قیدی ہوں واویلا
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
یہ دیس پرایا ہے کیا وقت یہ آیا ہے
چادر ہے نہ سایہ ہے بازو ہیں رسن بستہ
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
امت یہ کہاں لای مجمع ہے تماشائی
زینب پہ ہے تنہائی ہے وقت قیامت کا
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
عباس نہ اکبر ہے نہ فوج نہ لشکر ہے
یہ شام کا منظر ہے بیمار ہے اب تنہا
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
میں اشک بہاتی ہوں دربار میں جاتی ہوں
اب خطبے سناتی ہوں دشوار ہے ہر لمحہ
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
ہے وقت مدد یا رب دربار ہے اور زینب
عباس نہیں ہے اب آجایےء اے بابا
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
کانوں سے سکینہ کے جاری ہے لہو اب تک
ہمشیر کی غربت پر سجاد بہت رویا
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
دربار میں بے پردہ جب اہلِ حرم آے
اس وقت محب یزداں یہ بین تھا زینب کا
ہاے زینب ہاے ہاے شام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.