Baba Se Jo Mili Hay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Zaigham Abbas Rizvi
زنداں میں جب سکینہؑ کو بابا کا سر ملا
رونے لگے یہ دیکھ کے ساداتِ کربلا
زخمی لبوں سے زخمی گردن کو چومتی ھے
بابا سے جو ملی ھے
لپٹی ہوئی ھے سر سے جی بھر کے رورہی ھے
بابا سے جو ملی ھے
مظلوم و بے وطن ھے اور نام ھے سکینہؑ
سر مل گیا ھے لیکن ڈھونڈے کہاں وہ سینہ
سینہ سمجھ کے زخمی سر سے لپٹ گئی ھے
ہاں ختم ہوچکی ھے بابا سے یہ جدائی
مل جائیگی اُسے اب ہر درد سے رہائی
وہ شمر کے طمانچے کھاکھاکے تھک چکی ھے
زخمی ہیں کان دیکھو کرتا بھی جل چکا ھے
بابا کی لاڈلی کا کیا حال ھوگیا ھے
کیا کیا ستم اُٹھائے سب کچھ بتارہی ھے
پانی نہیں ھے کیسے بابا کا منہ دھلائے
زخمی لبوں سے بیٹی کس طرح خوں ہٹائے
سوکھے ہوئے لبوں پر آنسو گرا رہی ھے
بالوں میں ھےسفیدی رخسار بھی ہیں زخمی
پیوست ہوچکی ھے گردن میں اب رسن بھی
چھوٹےسے سِن میں کتنےصدمے اُٹھاچکی ھے
کربلا سے اب تک سوئی ھے کب سکوں سے
اب مل گئے ہیں بابا سوئیگی اب سکوں سے
بابا کے سر پہ اپنا سر رکھ کے سوگئی ھے
بازو بندھے تھےاسکےگردن بندھی تھی اسکی
پھپیوں کیساتھ ھائےپنجوں پہ چل رہی تھی
مظلوم اُس سفر میں ناقے سے بھی گری ھے
ذیشان اور ضیغم وہ چار سالہ بچی
زنداں میں ایسا سوئی بابا کے سر سے لپٹی
ماں نے بہت اُٹھایا لیکن نہ پھر اُٹھی ھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.