Chadaron ka naam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Haider Rizvi
چادروں کا نام سُن کر رو پڑی بنتِ علی
شام کے دربار میں
وا حجابا کہہ رہی تھی سیدہ کی لاڈلی
شام کے دربار میں
کُرسیوں پر قاتلانِ شاہ تھے بیٹھے ہوئے
سایہ دیوار میں تھے سب حرم لیکن کھڑے
با وفا کو ڈھونڈتی تھی دُخترِ شیرِ جری
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
شمر دیکھا تو سکینہ سہم کر رونے لگی
دور ہو جا شمر فضہ چیخ کر کہنے لگی
خوف سے مُرجھا رہی ہے باغِ اسمت کی کلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
تشت میں بابا کے سر پر جب پڑی اسکی نظر
اپنے زخموں کی رہی نہ پھر سکینہ کو خبر
دوڑتی بابا کی جانب لاڈلی بیٹی چلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
کون ہے زینب پکاری جس گھڑی فرعونی شام
ہائے غربت کہہ کے اُٹھا تھا میرا قیدی امام
اشک خوںکے رو رہا تھا شاہ کا بیٹا علی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
ظالموں کومل رہے تھے ظلم کرنے پر انعام
قہقہوں پر قہقہے تھے جام پرچلتے تھے جام
روتے روتے شام لوگو اہل ِاحمد کی ڈھلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
حکم حاکم نے سنایا مار دو بیمار کو
اِس جگہ ہی قتل کر دو قافلہ سالار کو
گِرپڑی عابدکے ا وپر ہائے نازوں کی پلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
جب علی اکبر کے سر کو سامنے لایا گیا
ہو گئی بے ہوش ماں سے نہ سنبھل پایاگیا
دخترِ فاطمہ پڑھنے لگی نادِ علی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
زینبِ کبریٰ نے رو کر جس گھڑی خطبہ دیا
ہائے اے توقیر عابد کا بدن تھا کانپتا
ہتھکڑی پر مارتا تھا سر ولی اِبنِ ولی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.