Bhare darbar may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Raza Abbas Zaidi
سجاد ہاے سجاد
کوفہ میں اجڑ کے کربل سے
جب روتے ہوے قیدی پہنچے
دربار سجا اور پیشی ہوئ
عابد پہ ضعیفی طاری تھی
اک شخص کہ جس نے دیکھا تھا
دربار میں مسلم کا آنا
سجاد سے کہتا تھا مولا
مسلم کو یہاں جب لایا گیا
با رعب تھا لہجہ سر تھا اٹھا
سر آپ کا لیکن نہیں اٹھتا
آنکھوں سے لہو کیوں بہتے ہیں
سجاد یہ سن کر کہتے ہیں
بھرے دربار میں مسلم کا آنا اور تھا
میرا پھپیوں کو اپنے ساتھ لانا اور ہے
چچا مسلم رداییں مانگ کر روے نہیں تھے
مگر سیدانیاں بھی بے ردا ہیں ساتھ میرے
وہ تنہا قید ہوکر سر کٹانا اور تھا
رداییں دیکھتے نیزوں پہ آنا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
وطن سے کربلا تک ساتھ سایا بن کے آے
چچا عباس پردے میں پھوپھی اماں کو لاے
پھوپھی زینب کا وہ محمل میں جانا اور تھا
بنا چادر کے یوں کوفے میں آنا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
اسی کوفہ کے حاکم جب میرے دادا علی تھے
روایت تھی ہماری ہم رداییں بانٹتے تھے
رداییں بانٹنے کا وہ زمانہ اور تھا
رداییں مانگنے کا یہ زمانہ اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
اگر اولاد والے ہو تو سمجھو گے یہ صدمہ
میری ماں دیکھ آی خاک پر اصغر کا لاشہ
وہ اماں کا اسے لوری سنانا اور تھا
جلے جھولے کو سینے سے لگانا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
سناں سینے پہ مقتل مین علی اکبر نے کھای
مجھے کربل سے امت ہے سر بازار لای
سناں اک بار ہی سینے پہ کھانا اور تھا
مسلسل قتل ہوتے شام جانا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
ہاں عزادارو نہ عابد کے ہوے صدمے تمام
بعد کوفہ کے جو پہنچا بے وطن بازار شام
قافلے کی راہ میں پھر اک سوالی آگیا
وہ مسافر نام جس کا سہل ابن سعد تھا
پوچھا اس نے خون مولا رو رہے ہو کس لیے
تب غریب شام یہ تھامے کمر کہنے لگے
سہل دیکھو سناں کی نوک پر بابا کا سر ہے
بندھا غازی کا سر بھی گردن رہوار پر ہے
مقابل شامیوں کے ان کا جانا اور تھا
میرا بازار میں خم ہو کے آنا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
سر عباس کو تب دیکھ کر سجاد بولے
چچا اپنے سفر کا حال کتنا مختلف ہے
وہ ہر منزل پہ خیموں کا لگانا اور تھا
یہ ہر منزل پہ پتھر سر پہ کھانا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
اجڑ کے کربلا سے شام تک تک میں آچکا ہوں
خدا جانے بدن پر زخم کتنے کھا چکا ہوں
چچا کے ساتھ وہ رستہ بنانا اور تھا
بندھے ہاتھوں سے لوگوں کو ہٹانا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
رسن میں ساتھ میرے ہیں بندھے معصوم بچے
میں جھک کر نہ چلوں تو بھی گلے دکھتے ہیں ان کے
وہ بابا کا انہیں پانی پلانا اور تھا
میرا بچوں کو پانی دے نہ پانا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
سحاب اصغر کی تربت شہ نے ہاتھوں سے بنائی
رضا عابد نے کیسے بہن کی میت اٹھائ
کھلے ہاتھوں سے تربت کا بنانا اور تھا
بندھے ہاتھوں سے میت کا اٹھانا اور ہے
بھرے دربار میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.