Berida zainab khadi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Hadi Ali Khan Muslim
بے ردا زینب کھڑی ہے شام کا دربار ہے
عالم غربت میں آل مختار ہیں
اب نہ لشکر ہے نہ عباس علمدار ہے
ہاے کیا بدلی ہوئی وقت کی رفتار ہے
سامنے رکھا ہوا فرق شہ ابرار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
ظلم ہے کرسی نشیں کنبہ نبی کا ہے کھڑا
اور اک بیمار ہے زنجیر میں جکڑا ہوا
ہیں رسن میں سب کے شانے اور سکینہ کا گلا
ہاے بچی کے لئے اب سانس لینا بار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
طشت میں رکھا ہوا ہے باپ کا سر سامنے
سانس رکتی ہے تڑپتی ہے جو جواہر سامنے
خون میں ڈوبے ہوئے ہیں کتنے منظر سامنے
کس قدر زخمی نگاہ عابد بیمار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
غمزدہ مادر کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا
نوجواں بیٹے کا سر دربار میں لایا گیا
جانے لیلیٰ سے یہ منظر کس طرح دیکھا گیا
کیسی غربت میں شبیہ احمد مختار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
وہ علی اصغر کا سر جیسے کوئی تازہ کلی
مادر بے شیر کی جس دم نظر اس پر پڑی
گود میں لےکر سلانے کی تمنا جاگ اٹھی
ہاتھ میں رسی بندھے ہے ماں بہت لاچار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
ہر گھڑی نظروں کے آگے اک قیامت ہے نیء
سر پہ بھای کے بہن کی ہے نظر ٹہری ہوی
ہونٹ وہ شبیر کے اور دست ظالم کی چھڑی
یہ بہن کے دل پہ اک چلتی ہوئی تلوار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
یاد آتا ہے مدینے سے سفر کا وہ سماں
تھا وہ عباس جری أہل حرم کا پاسباں
سر پرستی کو حسین ابنِ علی زہرا کی جاں
اب تو غربت ہم سفر ہے راستہ دشوار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
پاس بابا بھی نہیں کوئی نہیں اب آسرا
فاطمہ کی بیٹیوں پر وقت کیسا آگیا
دل یہی کہتا ہے اختر اب علی کو دیں صدا
آپکی بیٹی کو مولا اک ردا درکار ہے
---بے ردا زینب کھڑی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.