Berida sham ke darbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Hadi Ali Khan Muslim
بے ردا شام کے دربار میں جانا زینب
زلزلے آئیں گے جس وقت زمیں کو پیہم
چادریں چھین کے لے جائے جو بانیئے ستم
اور بلوے میں تماشائی بنے نامحرم
اپنے بالوں ہی سے منہ اپنا چھپانا زینب
بے ردا شام۔۔۔
میری نادان سکینہ کو نہ رونے دینا
بعد میرے کوئی تکلیف نہ ہونے دینا
گرم ریتی پہ کبھی اُس کو نہ سونے دینا
اپنے سینے پہ سکینہ کو سُلانا زینب
بے ردا شام۔۔۔
گھُڑکیاں میری سکینہ کو جو دے شمرِ لعیں
سیلیاں مارنے آئے جو اُسے وہ بے دیں
خوف کے مارے نکل جائے نہ جنگل میں کہیں
اپنی آغوش میں تم اُس کو چھپانا زینب
بے ردا شام۔۔۔
یہ لُٹا کارواں جس وقت مدینہ پہنچے
آ کے جو دُخترِ بیمار پدر کو پوچھے
اور بے شیر کو جس وقت وہ دکھیا ڈھونڈے
میری صغریٰ کو کلیجے سے لگانا زینب
بے ردا شام۔۔۔
قافلہ اہلِ حرم کا جو مدینہ جائے
اور اثنائے سفر میں میرا مقتل آئے
تم کو فرصت جو گھڑی بھر کے لیے مل جائے
چند آنسو میری تربت پہ بہانا زینب
بے ردا شام۔۔۔
کربلا میں جو میرے گھر پہ مصیبت گزری
اور بازاروں میں تم پر جو اذیت گزری
مختصر یہ ہے کہ جو کچھ بھی قیامت گزری
ساری روداد میری ماں کو سُنانا زینب
بے ردا شام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.