Aseeri ki hawa
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Afzal Mirza
یہ اسیری کی ہوا کیسے چلی ہے عباس
آج زینب سر دربار کھڑی ہے عباس
جن کے والی بھی نہیں گود میں بچے بھی نہیں
یہ بہن ساتھ انہیں لے کے چلی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
اب بھلا اور غریب الوطنی کیا ہو گی
سر پہ چادر نہیں اور دھوپ کڑی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
بجھ گےء شام غریباں کے وہ شعلے لیکن
دل زینب میں ابھی آگ لگی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
ایک بیمار بھتیجا ہے فقط ساتھ میرے
اس کے پیروں میں بھی زنجیر پڑی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
لوگ صدقے کی کھجوریں میری جانب پھینکے
کیا یہی مرتبہء آل نبی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
لب سرور پہ چھڑی مار رہا ہے ظالم
اور حسرت سے بہن دیکھ رہی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
بیٹھ کر پڑھتی ہوں راتوں کو نمازیں بھیا
اب تو میری بھی کمر ٹوٹ گیء ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
یہ اسیری ہے فقط مقصد شہ کی خاطر
ورنہ زینب تیرے سانچے میں ڈھلی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
شخصیت زینب مضطر کی بیاں کیا ہو بلال
کبھی زہرا کبھی سرور تو کبھی ہے عباس
یہ اسیری کی ہوا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.