Salaam e aakhir
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Alwidaii recited by Safdar Abbas
اے شہ کربلا اے شہ کربلا
ہر عزادار کے دل کی آواز ہے
بچے جو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
نہ ہونگے مجلس و ماتم سے ہم کبھی غافل
غمِ حسین کا لوگوں یہی تو ہے حاصل
اسی عقیدے پہ قایم ہر اک ذاکر
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
بچے جو اگلے برس۔۔۔
اٹھایا بانیء مجلس نے شہ نشیں کا ہجاب
یہ کہکے مولا کو ہم نے کیا سلام جناب
پاے سلام عزا یہ غلام حاضر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
بچے جو اگلے برس۔۔۔
ہر ایک شہید جو خیمے سے سوے دشت گیا
حسین و زینب و سجاد سے یہ کہکے چلا
یہ اپنی جان کا تحفہ تمہاری خاطر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
بچے جو اگلے برس۔۔۔
ملا جو اذن تو پیاسوں سے با وفا نے کہا
دعائیں کرنا کہ تم سے نہ ہم ہو شرمندہ
چلے ہیں جانب دریا خدا ہی ناصر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
بچے جو اگلے برس۔۔۔
بڑھاے سوگ یہ کہہ کر حسینی پروانے
پھر اگلے سال سجاینگے ہم عزا خانے
بچھے گی پھر یہ صف غم یہ بات ظاہر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
بچے جو اگلے برس۔۔۔
پلٹ کے کربوبلا سے جب آ رہے تھے گھر
تو بولے شاہ زمن سے یہ صفدر و مظہر
بچے جو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
بچے جو اگلے برس۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.