Alwida alwida
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Alwidaii recited by Sachay Bhai
الوداع، الوداع، الوداع اے حسینؑ
یہ صدائے فغاں اور یہ مجلسیں
ماتم و نوحہ اور غم کی یہ زینتیں
چاہتا ہے یہ دل یونہی قائم رہیں
آہ پھٹتا ہے دل کس طرح یہ کہیں
پھر کہاں ہوں گی یہ بزم آرائیاں
پھر کہاں یہ عَلَم اور یہ غم کے نشاں
پھر کہاں غم کی یہ مجلسیں پھر کہاں
پھر کہاں ہوگی شب کی یہ بیداریاں
مجلسوں کی یہ مصروفیت پھر کہاں
روز و شب کی یہ مشغولیت پھر کہاں
زندگی کی یہ موزونیت پھر کہاں
تو نہیں تو یہ مقبولیت پھر کہاں
بزمِ ہستی ترے بعد ہوگی اداس
صبح کی کوئی امید شب کی نہ آس
کیا کریں گے کہ ہوگی ہر اک سمت یاس
ہم تو گھبرا کے ہو جائیں گے بے حواس
میرے مہمان ہے آخری یہ سلام
تجھ پہ قربان ہے آخری یہ سلام
شاہِ ذی شان ہے آخری یہ سلام
دل ہے ویران ہے آخری یہ سلام
مومنو! غم کی یہ آخری رات ہے
دیدۂ نم کی یہ آخری رات ہے
اشکِ پیہم کی یہ آخری رات ہے
شہ کے ماتم کی یہ آخری رات ہے
بخش دے ہوگئی ہو جو کوئی خطا
حقِ خدمت نہ ہم سے ادا ہوسکا
غم یہی ہے نہ جی بھر کے ماتم کیا
تیری خاطر نہ کیوں اپنا سر دے دیا
گز جیۓ سال بھر پھر کریں گے یہ غم
روئیں گے پھر ترے غم میں مل کر بہم
اور اگر مر گئے تو یہ ہوگا الم
ہائے افسوس جی بھر کے روئے نہ ہم
الوداع اے حسینؑ، اے حسینؑ الوداع
الوداع اے شہِ مشرقین الوداع
بنتِ احمدؐ کے اے نورِ عین الوداع
ہے مجاہد کے لب پر یہ بین الوداع
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.