Tera chehlum karne
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Farhan Ali Waris
یا عباس یا عباس
میں تیری جاگیر میں آی ہوں عباس
میں شام کے لٹ کر آی ہوں
سوغات مصائب لای ہوں
تیرا چہلم کرنے آی ہوں
عباس
روداد سنانے کو میں شام سے آی ہوں
اک داغ سکینہ کا اس قلب میں لای ہوں
زندان ستم کی قیدی تھی
فرقت میں پدر کے روتی تھی
رو رو کے سکینہ جاں سے گیء
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
لاشوں سے جدا ہو کر جس وقت چلی زینب
خود رنج و مصایب کی تصویر بنی زینب
پتھرائی ہوئی یہ آنکھیں تھی
پتھریلی سفر کی راہیں تھی
راہوں میں فقط یہ آہیں تھی
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
محمل نہ عماری تھی نہ سر پہ میرے چادر
میں شام چلی غازی پابند رسن ہو کر
یاد آے مجھے پھر وہ لمحے
ہم لوگ وطن سے جب نکلے
محمل میں بٹھایا تھا تو نے
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
کیا سخت سفر تھا وہ ہر گام تڑپتی تھی
بھای میرا نیزے پر میں آگ پہ چلتی تھی
تھے اشک مسلسل آنکھوں میں
تھی خاک سفر ہی بالوں میں
اور نام تیرا تھا نالوں میں
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
یہ اجر رسالت کا ہم لوگوں نے پایا تھا
آمد پہ اسیروں کی بازار سجایا تھا
وہ لمحے کبھی نہ بھولوں گی
دربار میں پہنچے جب قیدی
میں یاد تجھے ہی کرتی تھی
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
دربار میں اے غازی ہم پر یہ جفاییں تھی
ایک سمت میرا خطبہ ایک سمت اذان تھی
حاکم نے شقی سے یہ پوچھا
ہے ان میں زینب کون بھلا
وہ زینب جس کا بھائی تھا
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
زنداں میں اسیروں نے ایک سال گزارا ہے
اس سال کا ہر لمحہ ایک سال کے جیسا ہے
جب حکم رہای کا آیا
اور لوٹ کا سب ساماں ملا
چادر جو ملی زینب نے کہا
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
فرحان زرا سوچو کیا حشر بپا ہوگا
جب مظہر یزداں کی بیٹی نے کہا ہوگا
زندان سے آی ہوں دیکھو
اے شیر جری اک بار اٹھو
زینب کا استقبال کرو
عباس
میں شام کے لٹ کر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.