Tera chehlum
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Kazmi Brothers
قید دو سال کی نبھا کے حسین
اور محنت تیری بچا کے حسین
تیرا چہلم منانے آئی ہوں
قید میری گزر گئی بھیا
وہ جو رسی تھی میرے ہاتھوں میں
دیکھو آخر اُتر گئی بھیا
قتل چھپنے نہیں دیا تیرا
ہر جگہ خون کا دیا پُرسہ
تیرے مقتل سے شام زنداں تک
خون میں ہو کے تر گئی بھیا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
ایک نیزے پے تیرا سر تھا اور
ایک نیزے پے میری چادر تھی
تیری آنکھیں تو بند تھیں پر میں
شام تک ننگے سر گئیُ بھیا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
وہ جو اصغر ع کے بعد کہتی تھی
اب میرا آسرا سکینہ س ہے
کیسے سائے میں اس کو لائوں میں
اب سکینہ س بھی مر گئی بھیا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
رسیاں تو اتر گئی ہیں مگر
بازوئوں پر نشان باقی ہیں
کیسے زندہ رہیں گے عبد اللّٰہ
میں جو زخمی ہی گھر گئئ بھئا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
ہائے بابا کجا کہ بِن چادر میری
ماں نے مجھے نہ دیکھا تھا
بعد غازی ع کے ایک شام کہاں
ہر جگہ ننگے سر گئی بھیا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
کیا ہو گر یہ بہن آنہ سکی
تیرا چالیسوآں منا نہ سکی
دیکھ کر بھیڑ پُرسہ داروں کی
میری محنت سنور گئئ بھیا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
کربلا کب وہ رہنے آئی ہے
صرف عمران کہنے آئی ہے
میں نے دوبارہ شام جانا ہے
حشر تک میں بچھڑ گئی بھیا
تیرا چہلم منانے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.