Qabre sarwar pe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
قبرِ سرور پہ نوحہ کناں ہے بہن
تیری تربت پہ اب مہمان ہے بہن
اک امانت جو سونپی تھی تو نے مجھے
غم ہے شرمندہ اس کو ہم لا نہ سکے
وہ وہاں شام میں اور یہاں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
تم پہ روی تو بس تازیانے لگے
راہ پرخار تھی پاؤں زخمی ہوے
دو سہارا مجھے ناتواں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
شام عاشور کو سارے خیمے جلے
رو رہی تھی تمہیں یاد کرتے ہوے
اب بھی ان شعلوں کے درمیاں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
قبر پر بھای کی کوی سایہ نہ تھا
بھای کی قبر سے تب لپٹ کر کہا
دھوپ میں قبر کا سایباں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
کرنے چہلم تیرا آی ہے غمزدہ
غم نہ کر تیری تنہا لحد ہے تو کیا
قبر پر تیری گریہ کناں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
چادریں چھن گیء ہاتھ بھی تھے بندھے
ہم کو بازار و دربار میں لے گےء
اک مصیبت کا کوہ گراں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
اک طرف قبر تیری ہے اے بھای جاں
دوسری سمت غازی کی تربت عیاں
دو طرف بھای ہے درمیاں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
جاؤ جب کربلا ماجد خستہ جاں
جب بھی مختار ہو کوی نوحہ کناں
ایسا لگتا ہے محوِ فغاں ہے بہن
قبرِ سرور پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.