Bhoolay nahi thay nohay mazloom e karbala kay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nazim Party
بھولے نہیں تھے نوحے مظلومِ کربلا کے
ہونے لگے ہیں ماتم زینبؑ تیری رِدا کے
تطہیر کے پلے ہیں رسی میں جو گلے ہیں
اہلِ حرمؑ چلے ہیں زہراؑ کا گھر لُٹا کے
پایا نہ شاہؑ کا سینہ گزرا سوا مہینہ
اور مر گئی سکینہؑ رو رو کے بلبلا کے
خیموں میں جن کے کل تک عباسؑ کا تھا پہرہ
قیدی بنی ہوئیں ہیں پہروں میں اشقیاء کے
باقرؑ ہیں اتنے کمسن یا طوق اتنا بھاری
سجادؑ چل رہے ہیں گردن کو یوں جُھکا کے
بیٹھی نہ چھاؤں میں اور ٹھنڈا پیا نہ پانی
سوُئی نہ بی بی زینبؑ بستر کبھی بچھا کے
اُجڑی ہوئی یہ مائیں کس دِل سے شام جائیں
اصغرؑ سے لاڈلوں کو زیرِ زمیں سُلا کے
سجادؑ ناتواں کو پہنا کے طوق و بیڑی
کہتا ہے کوڑھ والا چلنا قدم اُٹھا کے
پرُ خار راستوں میں آنسو لہو کے بھر کر
رونے لگے ہیں چھالے قیدی برہنہ پا کے
بیٹی بتولؑ تیری اور غیر کی کچہری
تربت میں بھی مسلماں تجھُ کو رہے ستا کے
زینبؑ کی اِک صدا پر مردانِ اہل ہاشم
حاضر جناب علیہٰؑ کہتے تھے سر جھُکا کے
آئی ہے بنتِ حیدرؑ محمل سے وہ اتاریں
مسلمؑ سے کوئی کوفی کہدے ذرا یہ جاکے
مشکل کشا بتائیں موُلا تیرے سِوائے
آزردہ دِل دِکھائے کس کو نثارؔ جا کے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.