Qabr pe bhai ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Zeya Jalalpuri
قبر پہ بھای کے کہتی تھی یہ روکر زینب
آی ہے شام کے زندان سے چھٹ کر زینب
بے کفن لاش پڑی تھی تمہاری میداں میں
یہ نہ سمجھو کہ بہن بھول گیء زنداں میں
روتی رہتی تھی اسی یاد میں مضطر زینب
قبر پہ بھای کے۔۔۔
آپ کے بعد بڑے ظلم و ستم ہم پہ ہوے
مال و اسباب لٹے خیمے جلے قید ہوے
کربلا سے گیء تا شام کھلے سر زینب
قبر پہ بھای کے۔۔۔
میرا بیمار اگر ضعف سے رک جاتا کہیں
پشت بیمار میں نیزوں کو چھپاتے تھے لعیں
بھیا رہ جاتی تھی اس وقت تڑپ کر زینب
قبر پہ بھای کے۔۔۔
ایک چھوٹی سی رسن میں تھے بندھے سب قیدی
ساتھ ہی ساٹھ میں گردن تھی بندھی بچی کی
ہر قدم کھاتی تھی تقدیر کی ٹھوکر زینب
قبر پہ بھای کے۔۔۔
کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ بھیا
چھل گیا سخت رسن سے میرا شانہ بھیا
اس طرح باندھی تھی رسی سے جکڑ کر زینب
قبر پہ بھای کے۔۔۔
کرتی تھی خم تو سکوں پاتے تھے بچے میرے
سیدھی ہونے سے گلے بچوں کے کس جاتے تھے
اس لیئے چلتی تھی بازار میں جھک کر زینب
قبر پہ بھای کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.