Mai aagayi bhaiya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Ali Yazdan
القصہ پہنچے کربوبلا میں وہ نوحہ گر
زینب تڑپ کے رہ گیء بھای کی قبر پر
اس طرح بین کرتی تھی وہ سوختہ جگر
بھابھی کی گود اجڑ گیء بھیا کرو نظر
تم کو خبر ہے ہم پہ جو آفت گزر گیء
قید ستم میں بالی سکینہ گزر گیء
زینب کی دہائی تھی میں آ گیء بھیا
کنبے کو تیرے کھو کر زنداں سے بھی ہو کر
میں آ گیء بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
میں کیسے بتاؤں جو ہوی ظلم و جفا ہے
تم اٹھ کے زرا دیکھو جو کچھ حال ہوا ہے
بکھرے ہیں میرے گیسوں زخمی ہے میرے بازو
چادر لٹی بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
جب پشت سے بیمار کی کھینچا گیا بستر
اس وقت اسے آگ سے میں لای بچا کر
غش میں تھا میرا دلبر خیموں سے اسے لا کر
میں گر پڑی بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
آیات خدا اتری صدا عرش سے ہم پر
برساے گےء کوٹھوں سے ہم لوگوں پہ پتھر
جس وقت تیرے سر پر اک مارا گیا پتھر
میں رو پڑی بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
اس رسی میں ہی بارہ گلے باندھ کے بھیا
حیواں کی طرح کھینچ کے لے جاتے تھے اعدا
وہ کھینچتے ہنس ہنس کر ہم اٹھتے تھے گر گر کر
شرماتی تھی بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
وہ تم نے امانت جو مجھے سونپی تھی بھیا
زنداں میں وہ تم کو ہی صدا دیتی تھی بھیا
تھے نیلے نشاں اس پر کانوں سے چھینے گوہر
روتی رہی بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
تم خواب میں زنداں سے اسے آے تھے لینے
بس یاد تمہیں کرتی رہی خواب سے اٹھ کے
زندانوں میں گھٹ گھٹ کر ہاے پھول سی وہ دختر
مرجھا گیء بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
زنداں کے اندھیرے میں چھپا آی ہوں بھای
اک ننھی سی تربت میں بنا آی ہوں بھای
وعدہ ہے میرا سرور میں قبر سکینہ پر
پھر جاؤں گی بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
بھای کی لحد پر جو گیء زینب نالاں
آنکھوں سے رواں آشک تھے اے ماجد و یزداں
اور گر کے وہ تربت پر یہ کہتی رہی رو کر
میں آ گیء بھیا
زینب کی دہائی تھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.