Karbala mein aayi hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
میں چھٹ کے شام سے اب کربلا میں آی ہوں
تمہاری قبر پہ اشکوں کا تحفہ لای ہوں
تمہاری تھی جو امانت میں اس کو لا نہ سکی
زحمت سے میں بچا نہ سکی
میں اسکی قید میں تربت بنا کے آی ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
تمہارا کرتہ سیا تھا جو اماں زہرا نے
وہ جس کو لوٹ لیا وقتِ عصر اعدا نے
میں شام سے وہی کرتہ بھی ساتھ لای ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
لو آگیء ہے یہ خواہر اٹھو اٹھو بھیا
میں اور چل نہیں سکتی سہارا دو بھیا
رسول کی ہوں نواسی فلک ستای ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
اے بھای ہم بھرے دربار سے گزارے گےء
غضب تو یہ ہے کہ پتھر بھی ہم کو مارے گۓ
نشان زخمی جبیں پر سجا کے لای ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
امام وقت یہ معصوم عابد بیمار
ہر ایک گام پہ جس نے اٹھاے ہے اعزار
میں جلتے شعلوں سے اسکو بچا کے لای ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
وہ میرے عون و محمد وہ قاسم و اکبر
میں ساتھ لای ہوں ان سب کے بھی کٹے ہوے سر
تمہارا سر بھی بدن سے ملانے لای ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
کب ااٹھی روتی ہوی قبر شہ سے بنت علی
یہ بین کرتی ہوی تب سوے فرات چلی
جو مجھ پہ گزری اے غازی سنانے آی ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
وہ قبر شاہ وہ چہلم کا دن وہ زینب زار
یہ نوحہ گونج رہا تھا اے ماجد و مختار
سلام کرنے شہیدوں میں تم کو آی ہوں
میں چھٹ کے شام سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.