Hai karbala ke ban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Hadi Ali Khan Muslim
ہے کربلا کے بن میں غریبوں کا اربعیں
شبیر کے مزار پہ زینب کی ہے جبیں
آنسو بہا رہے ہیں کھڑے عابدِ حزیں
آباد تھی حسین کے قدموں سے یہ زمیں
اب حال یہ ہے سر پہ کوئی سائباں نہیں
ہے کربلا کے۔۔۔
ماں جائے پہلے آگ لگی خیمہ گاہ میں
ہر داغ اک تازہ قیامت تھی راہ میں
بچی کی ہچکیوں کا ہے منظر نگاہ میں
زندانِ شام میں ہے سکینہ یہاں نہیں
ہے کربلا کے۔۔۔
عباسِ نامور جو حرم کا تھا پاسباں
روتی تھی یاد کر کے جسے ساری بیبیاں
بس جس کی لاش پہ تھے شاہِ دوجہاں
لاشہ کہیں تھا ہاتھ کہیں اور علم کہیں
ہے کربلا کے۔۔۔
بھیا ہمارے وعدے کی تکمیل ہو گئی
ایسا سفر ہواہے کے سر پر ردا نہ تھی
دربارِ شام میں تھی قیامت کی بے بسی
رودادِ غم سُنانے کی طاقت بھی اب نہیں
ہے کربلا کے۔۔۔
لیلیٰ تڑپ رہی تھی کہ دلبر نہیں رہا
لختِ جگر شبیہ پیمبر نہیں رہا
رونے کو ماں تو رہ گیء اکبر نہیں رہا
چہلم جوان بیٹے کا اور مادر حزیں
ہے کربلا کے۔۔۔
فروہ کو یاد قاسم نوشاہ آ گیا
پہنچا جو قتل گاہ میں دولہا بنا ہوا
ٹکڑے ملے تھے جسم کے لاشہ نہیں ملا
جس کے لہو سے سرخ ہوی تھی یہی زمیں
ہے کربلا کے۔۔۔
عباس تم نہیں تھے قیامت گزر گئی
میں کربلا سے شام تک ننگے سر گیء
گود کے پالے مر گےء میں کیوں نہ مر گیء
زینب تڑپ رہی تھی لرزنے لگی زمیں
ہے کربلا کے۔۔۔
کہتی تھی یہ رباب بچا لیجیےء مجھے
مولا لحد میں اپنی چھپا لیجیےء مجھے
گھر جا کے کیا کروں یہ بتا دیجیےء مجھے
سنسان گود ہو گیء والی کوئی نہیں
ہے کربلا کے۔۔۔
اہلِ جہاں کو ہو گی اگر حق کی جستجو
اختر اثر دیکھائے گا مظلوم کا لہو
ہے غمزدہ بہن کی یہی ایک آرزو
آباد زائرین سے ہو جائے یہ زمیں
ہے کربلا کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.