Chehlum karo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Nasir Zaidi
چہلم کرو مومنوں کربل کے میہماں کا
ماتم کرو مومنوں شاہ شہیداں کا
جس کو لعینوں نے پانی کو ترسایا
چہلم کرو مومنوں کربل کے میہماں کا
زنداں سے چھٹ کر بہن آتی ہے کربوبلا
قبر سکینہ سے وہ کس طرح ہوگی جدا
زہرا کے کنبے میں شور قیامت بپا
ہلتی ہے قبر نبی روتے ہیں شیر خدا
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
تربت سے غازی کی گزری جو دکھ پای
دریا پہ اے مومنوں اک لاش تھرای
زینب نے رو کر کہا اٹھو میرے بھائی
اب تو تمہاری بہن زنداں سے ہو آی
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
اصغر کی ماں دیکھو گھٹ گھٹ کے روتی ہے
وارث ہے مقتل میں مٹی میں موتی ہے
کلثوم اشکوں کی لڑیاں پروتی ہے
بالی سکینہ بھی زنداں میں سوتی ہے
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
یہ اس کا چہلم ہے جو اب تک ہے جو بیکفن
گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہے خستہ تن
جان پیمبر ہے زہرا کا ہے گل بدن
اس کو کفن کیسے دے خود بے ردا ہے بہن
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
پیٹو اب أہل عزا عرصہ ہے محشر کا
عابد کو پرسہ دو انکے بھرے گھر کو
غم سے برا حال ہے کلثوم مضطر کا
تابوت اٹھتا ہے زہرا کے دلبر کا
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
گھر میں قیامت ہے آل پیمبر کے
نوحے سنانا ہے اجڑے ہوے گھر کے
دیکھو زرا حوصلے سجاد مضطر کے
مولا نے دفناے لاشے بہتر کے
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
طوفان غم اٹھے ناصر کے نوحے سے
بتلاؤ کربل میں چہلم ہوا کیسے
شہ کے عزاداروں ماتم کرو ایسے
بیٹے کی میت پر روتی ہو ماں جیسے
چہلم کرو مومنوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.