Bhaiya mai aagayi hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mir Hasan Mir
چہلم کے لئے بھیاآئی ہے تیری زینب
اے میرے بھائی حسین
بھائی میں آگئی ہو ں نانا کا دیں بچا کے
جاوں گی اب مدینہ چہلم تیرا مناکے
معلوم ہے یہ تم کو زینب اُجڑچکی ہے
لیکن تیری شہادت گھر گھر پہنچ چکی ہے
شاباش دو بہن کو بھیا گلے لگا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
بھیا تمہاری زینب اب وہ نہیں رہی ہے
پہچان لوگے مجھ کو حالت بدل گئی ہے
چلتی ہے یہ ضعیفہ بھائی کمر جھکا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
سجاد اور باقر دینگے گواہی میری
کھائے ہیں تازیانے بنتِ علی نے پھر بھی
لے آئی شامیوں سے وار ث تیرے بچاکے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
کیسے بتاؤں بھیا بازار میں جو گزری
کہتے تھے سب کہ مارو یہ ہے علی کی بیٹی
بابا کے بھی میں بدلے سب آئی ہوں چکا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
اُمت نے تجھ پہ بھائی رونے کہاں دیا ہے
جی بھر کے میں نے تیرا ماتم کہاں کیا ہے
روئے گی آج زینب فرشِ عزاء بچھاکے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
گھر جاکے کیا کروں گی پہلو میں ہی سُلا لو
اکبر سے کہکے مجھکو تربت کی جا دلادو
مالک ہو تم تو بھائی جاگیرِکربلا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
یہ کہکے اے تکلم اُٹھی علی کی بیٹی
عباس کی لحد پر پہنچا دے مجھ کو کوئی
دکھلادوباوفا کو رسی کے نیل جاکے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.