Arbaeen aur imame
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Rizwan Zaidi
زمین عشق پہ گونجی اذان اربعین
جگر فگار ہوا کربلا کی ہوک اٹھی
غم حسین نے خیمے لگا دیےء دل میں
تمہاری یاد میں رونے کے واسطے مولا
لباس سوگ میں اشکوں کے قافلے پھر سے
اندھیری رات میں پلکوں پہ آکے اترے ہے
تمہارے وصل کی خسرت میں جاگتی آنکھیں
ضریح پاک کو چھونے کے خواب دیکھتی ہے
ہے آرزو تیرے روضے پہ اربعین کے لئے
مجھے نصیب سے وہ قافلہ عشق ملے
کہ سارباں امام زماں ہو جس کے
نجف سے کرب و بلا خار خار چلتے ہوے
میری جبیں پہ ان راستوں کی گرد پڑے
ہو جن پہ مہدی دوراں نے اپنے پاؤں دھرے
قدم قدم وہ کہیں آس پاس ساتھ میرے
کروڑوں لوگوں میں تنہا اکیلے چلتے ہو
میں بار بار نگاہوں سے پوچھ کر آنسوں
ہر ایک چہرے میں مہدی کے نور کو ڈھونڈوں
ہر ایک سے پوچھو کوئی چالیس برس کا جواں دیکھا ہے
کیا تم نے بھیڑ میں میرا امام دیکھا ہے
ہر ایک لذت دنیا سے بے قرار ہوکے
دیار غیر میں ہو جون بے سر و سامان
طعام مانگے بنا میرے ہاتھ میں دیکے
گلے لگا لے کوئی مجھکو بے وطن کہہ کے
تمہارے روضے کی جانب پیادہ پا مہماں
اڑاتا خاک چلے خستہ جان و تن پہنچے
تقیلات میں پھیلا کے اپنے دامن کو
امیر کربوبلا دیکھ تیری چوکھٹ پہ
نظر جمائے ہوے یہ فقیر بیٹھا ہے
تمہارے در پہ یہ دستک کا جو تسلسل ہے
میرے سوال کی ظاہر اسی سے شدت ہے
تیرے بغیر زمانہ اداس ہے سارا
میں تشنہ لب ہوں تو میری فرات ہے مولا
میں چاہتا ہوں اسی راہ عشق میں کھو کر
کبھی تلاش کروں اپنی ذات میں خود کو
کرے جو مجھ سے بغاوت وہ حر ملے مجھ میں تیرے حضور میں
بخشش کی آرزو لے کر
اسیر نفس تیرے در پہ کس طرح آے
بندھا کے ہاتھ چلے یا کے سر کٹاے
مجھے بھی زندگی کی آرزو ہے میرے حسین
میں تجھ پہ ایسا مروں کے حیات مل جاے
خفس سے نکلے پرندہ ہوا میں اڑ جاے
مگر رضا و اطاعت کا جام خالی ہے
بہ نام عشق زادے راہ پاس کچھ بھی نہیں
تو جانتا ہے میں کتنا غریب ہوں لیکن
میں جانتا ہوں تو کتنا کریم ہے مولا
بہ جز تیرے میری جاے پناہ کچھ بھی نہیں
تیرے سوا بھری دنیا میں کون ہے میرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.