Aaj hai chaliswan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Raza Abbas Zaidi
شام سے جب اہلِ بیت برسر عریان چلے
یعنی سوے کربوبلا چاک گریبان چلے
لے کے شہیدوں کے سر بے سر و ساماں چلے
کرتے ہوۓ یہ بیاں با دل نالاں چلے
آج ہے چالیسواں حضرت شبیر کا
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
راہ میں ان سے کوئی پوچھتا گر آن کر
کس کے ہو ناموس تم کس کے ہو لختِ جگر
کس نے لوٹا ہے تمہیں کس نے کیا بے پدر
کہتے تھے اہلِ حرم رو رو کے با چشم تر
تجھ سے بیاں کیا کرے ہم اپنے احوال کو
دفن کرنے ہیں چلے فاطمہ کے لال کو
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
وہ حرم محترم شاہ کے بصد بکا
منزلیں طےء کرتے ہاے پہنچے تھے جو کربلا
دور سے جب قتل گاہ ان کو دکھای دیا
رو رو کے کہنے لگے حضرتِ زین العباء
اونٹوں سے اترو تم اب کرتے ہوے شور و شین
رو کے چلو پیادہ پا یاں سے با لاش حسین
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
حضرتِ سجاد سے سن کے حرم یہ کلام
پیٹتے روتے ہوے اونٹوں سے اترے تمام
سر کو لگے پیٹنے وارثوں کے لیکے نام
آے جو لاشوں کے پاس ہاے وہ ناشاد کام
چادریں سر سے اتار آنسوں بہانے لگے
ہاتھوں سے بن کی خاک سر پہ اڑھانے لگے
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
حضرتِ زین العباء نوحہ یہ جب پڑھ چکے
بی بیوں سے اس طرح رو رو کے کہنے لگے
پہلے کہو کس کی لاش قبر میں عابد رکھے
بیوہء عباس یوں بولی میں صدقے تیرے
پہلے میرے والی کی لاش کو اٹھواییو
دے کے کفن قبر میں پھر اسے دفناییو
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
الغرض عباس کو جس گھڑی مدفوں کیا
ماتم عباس تب جن و ملک میں ہوا
بیوہء عباس تب روی وہاں خوب سا
رو رو کے عابد نے تب اپنی چچی سے کہا
جن و ملک میں ہوی بس یہی گفتار ہے
خاک میں مدفوں ہوا شہ کا علمدار ہے
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
وہ جو تھا ابنِ حسن قاسم عالی نسب
بیاہ کے دن ہاے ہاے قتل ہوا تشنہ لب
شادی کا جوڑا جو تھا مل گیا مٹی سے سب
اس کا ہی چہلم ہے آج واے ستم ہے غضب
حضرتِ سجاد نے سر کو بدن سے ملا
دے کے کفن قبر میں لاشہء قاسم رکھا
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
کہتی تھی اکبر کی ماں اے میرے کڑیل جواں
چھوٹ کے زنداں سے کرنے کو چالیسواں
خستہ جگر آی ہے سہتی ہوی سختیاں
دیکھ تو نورِ نظر کس طرح روتی ہے ماں
فاتحہ دلواونگی اشکوں کی برسات میں
زخم ہرے ہو گےء سینۂ سادات میں
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
بچوں سے بچھڑے ہوے زینب لاچار کو
بیت گےء کتنے دِن مضطر و غمخوار کو
اب جو رہائی ملی ہاے دلافگار کو
عون و محمد کے پھر سینہ و رخسار کو
پیار کیا اور یہ کہا اے میرے شیروں سنو
کرنا ہے چالیسواں بی بیوں ماتم کرو
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
بولی رباب حزیں لاشہء بے شیر پر
کیوں نہ گرے بجلیاں مادر دلگیر پر
خوں ہے ابھی تک لگا ظلم کے اس تیر پر
آج وہ دن آ گیا اف میری تقدیر پر
کرتی ہوں چالیسواں ننھے سے قرآن کا
صدقہ میں دلا سکی ہاے تیری جان کا
سید مظلوم کا زہرا کے معصوم کا
آج ہے چالیسواں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.