Mai raahib hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on As'hab e Hussain recited by Mesum Abbas
میں راحب ہوں میں راحب ہوں
میں ہوں راحب مسیح میرا قبیلہ لوگوں
میرے آقا میرے سردار ہے عیسا لوگوں
اک حقیقت سے اٹھاتا ہوں میں پردہ لوگوں
میرا حسین ہے عیسا کا مسیحا لوگوں
امام وقت کا میں انتظار کرتا ہوں
حلب کے دیر میں لمحے شمار کرتا ہوں
یقین ہے یہ میرا جب آینگے مولا
میں انکے قدموں میں گر کر صدا لگاؤں گا
تم پہ مولا میں فدا جان کروں
اپنے بیٹوں کو میں قربان کروں
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
سنو کے تم کو سناتا ہوں واقعہ ایسا
میری حیات میں ایسا بھی وقت آیا تھا
میں لا ولد تھا اور امید نہ تھی کوئی مجھے
حضور پاک نے یہ بات خود کہی تھی مجھے
لوحِ محفوظ کی تحریر بھی سنائی مجھے
مگر حسین نے اس دم پسر دیےء تھے مجھے
اک نہیں سات نگینے عطا کےء تھے مجھے
ہے یہ احسان بڑا بھلاؤں کیسے بھلا
یہ بات ان سے کہوں گا کہ فرض ہے یہ میرا
تم پہ مولا میں فدا جان کروں
اپنے بیٹوں کو میں قربان کروں
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
دفعتاً قافلہ اک شہر حلب میں پہنچا
یا حسینا یا حسینا سے لرزتی تھی فضا
نیند سے مجھکو جگا کر میری زوجہ نے کہا
خواب سے جاگو کہ پھٹتا ہے کلیجہ میرا
کون کرتا ہے تڑپ کر گریہ
کون کہتا ہے یہ بابا بابا
خواب غفلت سے اٹھا اور میں نے یہ کہا
ایسا لگتا ہے چلے آئے میرے گھر مولا
تم پہ مولا میں فدا جان کروں
اپنے بیٹوں کو میں قربان کروں
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
سن کے آواز جرس جانب دہلیز گیا
میری آنکھوں کو نظر آیا قیامت کا سماں
کیا کہیں میں نے کن آنکھوں سے وہ منظر دیکھا
بے ردا چند اسیروں کو کھلے سر دیکھا
کتنے سورج تھے جنہیں نوکِ سِناں پر دیکھا
میں نے اک چھوٹا سا سر دل کو پکڑ کر دیکھا
اک سر پر نہیں موجود ردا
ایک سر شرم و حیاء سے ہے جھکا
ایک رہوار کی گردن میں بندھا
ایک سر بر سر نوکِ نیزہ
دیکھ کر قافلہ میں آہ و بکا کرتا ہوں
پیٹ کر سر کو میں زار و قطار روتا ہوں
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
میں نے پہلے بھی کہیں دیکھے ہیں ایسے چہرے
ایسے نورِ عین بشر تو مباہلے میں ہی تھے
یا خدا نیزے پہ جو سر ہے یہ وہ لوگ نہ ہو
وہ جو اولاد پیمبر ہے یہ وہ لوگ نہ ہو
جنکی تعریف میں انجیل میں بھی جملے ہے
وہ جو چاہے تو پہاڑوں کو ہلا سکتے ہیں
یقین ہے یہ میرا جب آیینگے مولا
میں انکے قدموں میں گر کر صدا لگاؤں گا
تم پہ مولا میں فدا جان کروں
اپنے بیٹوں کو میں قربان کروں
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
وہ جو سر ناطق قرآن نظر آتا تھا
دو ستمگروں کا اس سر پہ لگا تھا پہرہ
ڈرتے ڈرتے جو میں نزدیک گیا
نیزہ برداروں سے میں نے پوچھا
یہ جو خون روتا ہے سر کیا ہے زہرا کا پسر
پہرہ داروں نے کہا ہے یہ باغی بہ خدا
حاکم شام نے ہے اس پہ انعام رکھا
اس کے حامی نہ بنو تم راحب
اس کے حامی کا ہے مرنا واجب
میں پریشاں ہوا اور یہ کہنے لگا
ایک اشک ہے میرے دل میں زرا پوچھوں اس سے
ایک لمحے کے لیےء بات میں کرلوں اس سے
مجھے اس سر سے ملا دو جتنے قیمت ہے لگا دو
ایک شب کے لئے سر سے اپنے پہرے کو ہٹا دو
جب اجازت ملی پھر دل کو میرے آیا قرار
میں نے درہم بھی سپاہی کو دیےء تیس ہزار
لے کے اس سر کو جو میں گھر پہنچا
میں نے اس سر سے کہا مجھکو بتا
بتاؤ کون ہو تم بتاؤ کون ہو تم
میں یہ بولا کہ تیرا جرم ہے کیا
وہ یہ بولا کہ محمد سے وفا
میں یہ بولا کہ تیرا نام ہے کیا
وہ یہ بولا مجھے پہچان زرا
تیرا مہمان ہوں میں تیرا مہمان ہوں میں
نبھانے طفلی کا وعدہ
لے کے سب اپنا کنبہ
تیرے گھر آ گیا راحب
میں پیمبر کا جگر ہوں راحب
میں ہی زہرا کا پسر ہوں راحب
جس نے بیٹے تجھے بخشے وہ سقی ہوں راحب
با خدا میں ہی حسین ابنِ علی ہوں راحب
کربلا میں جو ستم ٹوٹے بتاتا ہوں تجھے
اپنے بیٹوں کا بھی مقتل میں سناتا ہوں تجھے
میرے عابد کو لہو رلوایا
ہاے باقر کا بچپنا چھینا
میرے اکبر کو ہے نیزہ مارا
میرے قاسم کو ہے پامال کیا
سر کےء عون و محمد کے جدا
یہ انتہا ہے کہ اصغر پہ رحم نہ کھایا
یا حسینا یا حسینا یا حسینا یا حسینا یا حسینا یا حسینا
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
سن کے راحب یہ بیاں تھام کے دل رونے لگا
اور اعدا کو سر شاہ بھی واپس نہ کیا
ایک ایک کر کے کیےء ساتوں پسر شہ پہ فدا
ارسلان اعظمی میثم ہے موجود جگہ
سر جہاں مولا حسین ابنِ علی کا تھا رکھا
در راحب ہے جہاں کرنا محسوس وہاں
گونجتی اب بھی فضاؤں میں ہے راحب کی صدا
تم پہ مولا میں فدا جان کروں
اپنے بیٹوں کو میں قربان کروں
میں ہوں نجران کا راحب
میں راحب ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.