Habeeb aa jao
Noha Lyrics & Urdu Writeup on As'hab e Hussain recited by Mir Hasan Mir
اے فقیہِ حسین
اے حبیبِ حسین
یہ خط میں شاہ نے لکھا حبیب آجاؤ
تمہارا دوست ہے تنہا حبیب آجاؤ
شہید کیسے ہوا وہ بتاو ٔگے آکر
تم حالِ مسلمِؑ بے کس سناؤ گے آکر
رُقیہ تکتی ہے رستہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
لگاؤ اس سے بھی اندازے میری غربت کے
جہاں پہ ابن علی لکھنا تھاوہاں میں نے
دیا ہے ماں کا حوالہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
بتا رہا تھا اُسے کوئی بھی نہیں ہے میرا
تو بولی ثانیٔ زہرا حبیب آئے گا
ہے اُس کو تم پہ بھروسہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
وہ جب یہ سنتی ہے کوفے سے آرہے ہیں شقی
تو پوچھتی ہے ہمارا بھی آئے گا کوئی
دُعائیں دے گی سکینہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
گوارا کر نہیں سکتی حسین کی غیرت
تمہاری زوجہ کی چادر کو لوٹ لے اُمت
تم اس کو چھوڑ کے کوفہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
مجھے ہے یاد وہ لمحہ جو رب کی مرضی سے
تم ہو کے زندہ میری بات سننے آئے تھے
ہاں بُلا رہا ہوں دوبارہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
درِ بتول دوبارہ جلایا جائے گا
تمہارے دوست پہ خنجر چلایا جائے گا
نہیں ہے وقت زیادہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
چمکتے چاند کی ہم کو بھی دید ہو جائے
تم آو تو میرے بچوں میں عید ہو جائے
بہت اُداس ہے کنبہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
یہ خط نہیں اسے بہنوں کی آرزو سمجھو
ہمارے لفظوں کو زینب کی گفتگو سمجھو
بہن یہ کہتی ہے بھیا حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
بہن نے اُس کو تکلم جو بھائی سمجھا تھا
پکاری شامِ غریباں میں ثانیٔ زہرا
ہمارا لُٹتا ہے پردہ حبیب آجاؤ
یہ خط میں شاہ نے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.