Zara rok le khanjar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Hasan Mir
زینب کو دیکھا شہ نے جو نزدیک قتل گاہ
اس دم غریب زہرا نے قاتل سے یہ کہا
زینب نکل آئی ہے ذرا روک لے خنجر
مولا یہ صدا دیتے تھے اے شمر ستم گر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
آخر کو سفر ہونا ہے اس دار محن سے
دو با تیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے
آتی ہے میری سمت میری لاڈلی خواہر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
تو لاکھ ستم گر ہے مگر کام یہ کر جا
اے شمر میرے سینے سے کچھ دیر اتر جا
مر جائے گی اس حال میں دیکھا جو برادر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
بھائی کی محبت میں وہ بیتاب ہوئی ہے
خیمے سے بہت تیز وہ مقتل کو چلی ہے
سر سے میری بہنا کے اتر جائے نہ چادر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
دیدار کرے وہ میرا میں بھی اسے دیکھوں
زخمی ہوں مگر آخری تعظیم تو کر لوں
اے شمر بہن ہے یہ میری ماں کے برابر
ذرا روک لے خنجر۔
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
زینب چلی جائے تو ستم چاہے جو ڈھانا
ہٹ جائے بہن میری تو خنجر کو چلانا
کچھ دیر میرے شانوں پہ رہنے دے میرا سر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
عباس کی خاطر مجھے پیغام یہ دےگی
شاید علی اکبر کی کوئی بات کرے گی
کچھ دیر تو رونے دے بہن بھائی کو مل کر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
مظلوم کی تصویر کو آنکھوں میں بسا کر
شبیر سے معصوم سکینہ کو ملا کر
وعدہ ہے چلی جائے گی واپس مری خواہر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
کہنے لگا مولا سے ستم گار یہ ہنس کر
پہلے بھی نکل آئی تھی یہ خیمے سے باہر
شہ نے کہا جب قتل ہوا تھا علی اکبر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
سر شہ کا جدا کرنے میں مصروف لعیں تھا
کیا کہتا ہے مظلوم وہ سنتا ہی نہیں تھا
کہتا رہا سر تن سے جدا ہو کے بھی اکبر
زینب نکل آئی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.