Zalzalon may dunya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Anj. Sabile Masumeen
زلزلوں میں دُنیا تھی آسمان لرزا تھا
رِہ گئے گرم صحرا پر شاہِ دیں کا لاشہ تھا
بے قرار موجیں تھیں شعلہ بار دریا تھا
ابنِ ساقئی کوثر تین دن کا پیاسا تھا
زلزلوں میں دُنیا تھی ۔۔۔
قتل ہو گئے عباس آس ٹُوٹی پیاسوں کی
مشک ٹکڑے ٹکڑے تھی خون میں تر پھریرا تھا
زلزلوں میں دُنیا تھی ۔۔۔
ہر قدم پہ ٹھوکر تھی دل میں درد اُٹھتا تھا
شہ کی ناتوانی تھی نوجواں کا لاشہ تھا
زلزلوں میں دُنیا تھی ۔۔۔
کل لہو میں ڈُوبے گی نوجوانی اکبر کی
ماں کی چشمِ حسرت میں صبح کا سناٹا تھا
زلزلوں میں دُنیا تھی ۔۔۔
تشنہ لب وہ مہماں تھے کربلا کے جنگل میں
جن کے واسطے پانی خون سے بھی مہنگا تھا
زلزلوں میں دُنیا تھی ۔۔۔
قلب فوج میں اُٹھی انقلاب کی موجیں
دشتِ شاہ پر پیاسا شیر خوار بچہ تھا
زلزلوں میں دُنیا تھی ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.