Zainab ne hilakar shana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Zia Rizvi
زینب نے ہلا کر شانہ کہا
اے سید سجاد اٹھو
لڑی ہے زمین کرب و بلا
اے سید سجاد اٹھو
---زینب نے ہلا کر
گردوں نے لہو برسایا ہے
سورج بھی گرہن میں آیا ہے
سر تن سے ہوا سرور کا جدا
اے سید سجاد اٹھو
---زینب نے ہلا کر
سر کاٹ کے نوک نیزہ پر
اعدائ رکھا ہے اے دلبر
پامال کی زد پر ہے لاشہ
اے سید سجاد اٹھو
---زینب نے ہلا کر
فرزند نبی پر گھوڑوں کی
میں کیا کروں وہ یلغار ہوئی
سب ٹکڑے بدن سرور کا ہوا
اے سید سجاد اٹھو
---زینب نے ہلا کر
معصوم سکینہ کے بندے
اف شمر نے اس طرح کھینچے
خون کانوں سے اب تک ہے بہتا
اے سید سجاد اٹھو
---زینب نے ہلا کر
ہے وقت کٹھن آنکھیں کھولو
صدقے ہو پھوپھی منہ سے بولو
بیدار ہو غش سے بہرے خدا
اے سید سجاد اٹھو
---زینب نے ہلا کر
عقبہ میں تو بے شک پائے گا
دنیا میں بھی کچھ مل جائے صلہ
کہہ دے جو انیس اتنا زہرا
اے سید سجاد اٹھو
--زینب نے ہلا کر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.