Zaafare jin
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Shadman Raza
جو پہنچا عصر کو دشت بلا میں زعفر جن
گھرا عجیب غم نارواں میں زعفر جن
ستم وہ دیکھتا ہے کربلا میں زعفر جن
کہ مبتلا ہوا غم کی فضا میں زعفر جن
بہت ہی تنہا شہ خوشخصال کو دیکھا
کہ چور زخموں سے زہرا کے لال کو دیکھا
جو پہنچا عصر کو کربو بلا میں زعفر جن
مچل کے زعفر جن نے نکال کر تلوار
بلند کرتا ہے جسمی لکل فدا کی پکار
حسین کو جو یہ منظر نظر پڑا ایک بار
پکار کر کہا زعفر نہ کر ابھی پیکار
بلا کے بن میں نہ ہم یوں لڑائی چاہتے ہیں
خدا سے امت جد کی بھلای چاہتے ہیں
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
قریب آگیا یہ حکم سنتے ہی زعفر
نظر پڑا اسے اندوہ ناک ایک منظر
کہ ذوالجناح کی تھامے لگام ہیں حیدر
عمامہ سر سے اتارے کھڑے ہیں پیغمبر
وہاں تھے نوح ذبیح و قلیل آے ہوئے
کھڑے تھے موسیٰ و عیسی بھی سر جھکائے ہوئے
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
قدم کو چوم کے شہ کے پکارا یہ زعفر
میرے امام میرے مقتدا میرے رہبر
لہو رلاتا ہے مجھکو یہ خوں فشاں منظر
نہ جانثار کوئی اور نہ ناصر و یاور
نہ لشکریں نہ سپاہی کسرتوں ناصر
نہ قاسم نہ علی اکبر نہ عباس
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
حسین لے گئے زعفر کو تب سوے میداں
تو دیکھا سوتا ہے دریا کنارے ایک جواں
کٹے ہیں ہاتھ تو شانوں سے بھی ہے خون رواں
کہا حسین نے زعفر سے با دل گریاں
ہے حسرتوں کا بدن یاس کا یہ لاشہ ہے
ہماری جان کا عباس کا یہ لاشہ ہے
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
حسین تب سوے مقتل چلےمےء زعفر
وہاں زمین پہ لاش جوان آی نظر
حسین بولے یہ ہے ہم شبیہہ پیغمبر
ہمارے جان و جگر اور ہمارے نور نظر
جگر پہ نیزہ لگا پشت سے ہوا باہر
سناں کے ساتھ کلیجہ بھی آگیا باہر
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
جو پوچھا زعفر جن نے یہ گٹھڑی میں کیا ہے
حسین روکے پکارے کہ ایک دولہا ہے
میرے اخی حسن مجتبیٰ کا بیٹا ہے
ستم سے گھوڑوں کی ٹاپوں نے اسکو کچلا ہے
ہے صحرا ہاتھ میں خواہر بھی انتظار میں ہے
در قیام پہ مادر بھی انتظار میں ہے
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
کہا حسین نے اب تو یہاں سے جا زعفر
جو انبیاء بھی یہاں ہے نہ کوئی ٹہرے ادھر
فقط رہے یہاں میرے نانا پیغمبر
رہیں گے بھیا حسن اور رہے گا میرا پدر
بلا کے دشت میں احمد کی پیاری آتی ہے
فلک سے اب میری ماں کی سواری آتی ہے
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
بہ وقتِ عصر چلی کربلا میں تیز ہوا
ملایکہ بھی یہ اترے سواری ء زہرا
پسر کو بی بی نے بڑھ کر گلے سے لپٹایا
رکھا حسین نے زانوں پہ ماں کے سر اپنا
کہا مجھے وہی لوری سنادو اے اماں
کہ نیند آتی ہے مجھکو سلادو اے اماں
جو پہنچا عصر کو۔۔۔
بیاں ہو کیسے اے ماجد وہ خوں فشاں منظر
دوبارہ دشت میں آیا پلٹ کے جب زعفر
تو دیکھا چل گیا حلقوم شاہ پہ خنجر
بلند نیزے پہ تھا شادماں حسین کا سر
مچی تھی لوٹ نبی کے قیام جلتے تھے
سروں کو پیٹتے اہل حرم نکلتے تھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.