Ye roke kehti thi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ghadeer Fatima
یہ رو کے کہتی تھی بنت حیدر
نجف سے بابا مدد کو آؤ
ہے رن میں تنہا میرا برادر
نجف سے بابا مدد کو آؤ
عجیب چہرے پہ بے کلی ہے
جگر میں ٹوٹی ہوی انی ہے
تڑپ رہا ہے زمیں پر اکبر
نجف سے بابا۔۔۔
تمام خیمے جلے ہوے ہیں
یہ ننھے بچے ڈرے ہوے ہیں
بہت ہی پرحول ہے یہ منظر
نجف سے بابا۔۔۔
لٹا ہے اسباب رن میں سارا
ہے چرخ اب سایباں ہمارا
حرم ہے نوحہ کناں کھلے سر
نجف سے بابا۔۔۔
بھلا رہے دل پر کیسے قابو
کہ اپنا غازی کٹا کے بازو
وہ سو گیا نہر علقمہ پر
نجف سے بابا۔۔۔
لحد بناتے ہیں بے زباں کی
یہ شہ کے منزل ہے امتحاں کی
ملے ہیں چہرے پر خونِ اصغر
نجف سے بابا۔۔۔
جو ایک شب کا بنا تھا دولہا
پڑا ہے ٹکڑوں میں اس کا لاشہ
لگے ہے کبرا کے دل پہ نشتر
نجف سے بابا۔۔۔
سنو تو فریاد اب خدارا
کہ جینا مشکل ہوا ہمارا
پکارتی ہوں تمہیں برابر
نجف سے بابا۔۔۔
سکون مادر کو کیسے آے
زمیں پہ اصغر پڑا ہے ہاے
لبوں پہ سوکھی زباں پھرا کر
نجف سے بابا۔۔۔
ہے زخم دل میں سفر ہے جاری
یہ بیڑیاں اور یہ طوق بھاری
وہ میرا عابد چلے تو کیوں کر
نجف سے بابا۔۔۔
سکینہ اصغر کو ڈھونڈتی ہے
کہاں ہے بھیا یہ پوچھتی ہے
پتہ میں اسکو بتاؤں کیوں کر
نجف سے بابا۔۔۔
عطش کا حملہ ہے اب بھی جاری
یتیم بچوں پر غش ہے طاری
نہ کوئی ہمدم نہ کوئی یاور
نجف سے بابا۔۔۔
نہیں ہے اپنا کوئی سہارا
خیال کچھ تو کرو ہمارا
دکھاؤ مشکل کشای آ کر
نجف سے بابا۔۔۔
رضا بہتر کا زخم کھا کر
ہے سر بہ سجدہ میرا برادر
لیےء ہے ہاتھوں میں شمر خنجر
نجف سے بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.