Ya ali ya hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nadeem Sarwar
اللہ ہی اللہ تو ہی تو اللہ
جو محمد کا وفادار ہے اللہ اس کا
کربلا اس کی نجف اس کا مدینہ اس کا
زندگی ہے تو بس علی کی طرح
موت آے تو یا حسین حسین
یا علی یا حسین
آواز محمد کا اثر ختم نہ ہوگا
تھک جاے گا سورج یہ سفر ختم نہ ہوگا
یا علی یا حسین۔۔۔
لا ریب کہ رسول کی دونوں ہیں زیب و زین
پہلو میں یا علی ہے تو گودی میں یا حسین
لوح و قلم کا علم کا ساحل ہے یا علی
جب تک خدا کا ملک ہے مالک ہے یا حسین
یہ علم کا در صبر کا گھر ختم نہ ہوگا
تھک جاے گا سورج یہ سفر ختم نہ ہوگا
یا علی یا حسین۔۔۔
یہ سلطنت عشق ہے خود دار ملیں گے
سلمان و ابوزر سے وفادار ملیں گے
عاشق یہاں میثم سے جگردار ملیں گے
جینے کے لیےء مرنے پہ تیار ملیں گے
کٹ جاے زباں عشق مگر ختم نہ ہوگا
تھک جاے گا سورج یہ سفر ختم نہ ہوگا
یا علی یا حسین۔۔۔
مسلم بن عقیل سفیر حسین ہے
حب علی ہے دل میں مشیر حسین ہے
وہ بادشاہ اور یہ وزیر حسین ہے
ایسا وزیر ہے کہ فقیر حسین ہے
تا حشر سفارش کا سفر ختم نہ ہوگا
تھک جاے گا سورج یہ سفر ختم نہ ہوگا
یا علی یا حسین۔۔۔
حر کو سقی حسین نے عالی بنا دیا
ایسا کہ پنجتن کا سوالی بنا دیا
ناد علی نے اس کو جلالی بنا دیا
رومال فاطمہ نے مثالی بنا دیا
یہ در ہے عطاؤں کا یہ در ختم نہ ہوگا
تھک جاے گا سورج یہ سفر ختم نہ ہوگا
یا علی یا حسین۔۔۔
اے میرے رب جہاں اے محمد کے خدا
یہ تیرا عشق تھا جس کی پرواز جدا
یہ تیرا عشق ہی تھا پنجتن سے جو ملا
عشق کا تیرے سفر عشق حیدر میں ملا
کبھی میثم کبھی مقداد و ابوزر میں ملا
کبھی سلمان کے دل میں کبھی قمبر میں ملا
اور مقتل میں جو دیکھا تو بہتر میں ملا
لایق عشق ہے تو تیرا جلوہ ہر سوں
اے میرے رب جہاں اے محمد کے خدا
عشق تو نے بھی کیا وہ محمد تیرا
جس کی چاہت کے لئے یہ جہاں خلق کیا
وہ تیرا عشق ہی تھا وہ تیرا عشق ہی تھا
اے میرے رب جہاں اک عجب عشق ہوا
وہ سر کربوبلا تیرا عاشق ہے کھڑا
خون میں ڈوبا ہوا دے چکا لختِ جگر
دے چکا نور نظر دے چکا سارا وہ گھر
اور خنجر کے تلے اس کا سجدے میں ہے سر
نہ نماز ایسی نہ عاشق کا کلیجہ ایسا
نوکِ نیزہ پہ بھی کرتا ہی رہا ذکر تیرا
یا علی یا حسین۔۔۔
ایک ذوالفقار خلق میں دو ہاتھ سے چلی
دست حسین و پنجہء مشکل کشاء علی
یہ مصطفیٰ کے جان وہ اللہ کا ولی
دونوں کا مرتبہ بھی دو عالم پہ ہے جلی
دونوں کا اس کمال سے سجدہ ادا ہوا
حیدر سے ابتداء ہوئی یاں خاتمہ ہوا
یا علی یا حسین۔۔۔
ہے وقتِ عصر مرضیء پروردگار ہے
اب پشت ذوالجناح پہ مولا سوار ہے
پہلو میں خون روتی ہوئی ذوالفقار ہے
ہمراہ ذوالجناح بھی بہت دلفگار ہے
قربان ذوالجناح پہ اور ذوالفقار پر
جلتے تھے دونوں مرضیء پروردگار پر
یا علی یا حسین۔۔۔
جیسی وہ ذوالفقار تھی ویسا تھا ذوالجناح
بچپن سے ساتھ ساتھ ہی رہتا تھا ذوالجناح
بے مثل و بے نذیر تھا اعلیٰ تھا ذوالجناح
کیوں کر نہ ہو رسول نے پالا تھا ذوالجناح
پہلا سوار وہ نبیء کردگار ہے
اور دوسرا یہ دوش نبی کا سوار ہے
یا علی یا حسین۔۔۔
چیتے کی جست شیر کی چتون ہرن کی آنکھ
چلتا تھا دیکھ دیکھ کے شاہ زمن کی آنکھ
لڑتی تھی یوں ہر ایک پہ اس صف شکن کی آنکھ
لڑتی ہو جیسے جنگ میں شمشیر زن کی آنکھ
تیغ آی جس پہ اس کا بھی وار اس پہ چل گیا
وہ سر گرا گیء تو یہ لاشہ کچل گیا
یا علی یا حسین۔۔۔
کہتا تھا ذوالفقار سے اب میری جنگ دیکھ
چل میرے ساتھ ساتھ زرا میرا رنگ دیکھ
اس پیاس میں لڑائی کا میرا بھی ڈھنگ دیکھ
راہِ حیات کتنوں پہ کرتا ہوں تنگ دیکھ
مانا تو ذوالفقار ہے مرحب شکار ہے
لیکن یہ دیکھ کون یہ مجھ پر سوار ہے
یا علی یا حسین۔۔۔
سمٹا جمع اڑا ادھر آیا ادھر گیا
چمکا پھرا جمال دکھایا ٹہر گیا
تیروں سے اڑ کے برچھیوں میں بے خطر گیا
بر حق کیا صفوں کو سروں سے گزر گیا
آیا جو ضد میں اس کی اجل آ گیء اسے
ایک ٹاپ پڑی جس پہ زمیں کھا گیء اسے
یا علی یا حسین۔۔۔
اللہ رے لڑائی میں شوکت حسین کی
تھی تیغ و ذوالجناح میں جرت حسین کی
قدرت بہ غور کرتی تھی صورت حسین کی
قہر خدا سے کم نہ تھی حیبت حسین کی
بولے علی حسین نہ اب بھی حواس میں
ایسی تو جنگ ہم نہ لڑے بھوک و پیاس میں
حسین یا حسین۔۔۔
آی صداے غیب کہ بس بس حسین بس
دم لے ہوا میں چاند نفس اے حسین بس
گرمی سے ہانپتا ہے فرس اے حسین بس
وقتِ نماز عصر ہے بس بس حسین بس
حسین یا حسین۔۔۔
یہ سنتے تھے حضرت جو لگا پشت پہ بھالا
خربوز پہ تھرا کے گرے حضرتِ والا
جبریل نے قدموں سے رکابوں کو نکالا
اور ہاتھوں کو گردن میں یداللہ نے ڈالا
دیکھا جو ذوالجناح نے غش کھاتے زین پر
بس بیٹھ گیا ٹیک کے گھٹنوں کو زمیں پر
قرآن رحل زیں سے سر فرش پر گرا
دیوار کعبہ بیٹھ گیء عرش گر پڑا
حسین یا حسین۔۔۔
چلای فاطمہ میرا بچہ ہے بے گناہ
اے ارض نینوا میرا بچہ بے گناہ
اے ارض علقمہ میرا بچہ بے گناہ
اے ذوالفقار تو ہی بچا لے حسین کو
اے ذوالجناح تجھ سے میں لونگی حسین کو
حسین یا حسین۔۔۔
ڈوبا لہو میں لوٹ کے آیا ہے ذوالجناح
سمجھی سکینہ بابا کو لایا ہے ذوالجناح
سر خاک پر پلٹ کے پکارا وہ راہوار
سیدانیوں بچھڑ گیا مجھ سے میرا سوار
جلدی اتار لو یہ تبرک یہ ذوالفقار
ارے کٹتا ہے واں گلوے شہنشاہ نامدار
زہرا قریب لاش پسر خاک اڑاتی ہے
ارے خیموں میں جاؤ لوٹنے کو فوج آتی ہے
حسین یا حسین۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.